Taiseer-ul-Quran - Ash-Shura : 50
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
اَوْ يُزَوِّجُهُمْ : یا ملا جلا کردیتا ہے ان کو ذُكْرَانًا : لڑکے وَّاِنَاثًا : اور لڑکیوں (کی شکل میں) وَيَجْعَلُ : ور بنا دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے عَقِيْمًا : بانجھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : علم والا ہے، قدرت والا ہے
یا لڑکے اور لڑکیاں ملا کردیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ 70 بنا دیتا ہے۔ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا قدرت والا ہے
70 اولاد کے بارے میں انسان کی بےبسی :۔ اس سے پہلی آیت کا آغاز یوں فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں جملہ تصرفات صرف اللہ اکیلے کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر ان تصرفات کے صرف ایک پہلو کو دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ دیکھ لو انسان اولاد کے بارے میں کس قدر بےبس ہے۔ انسان کی فطری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ مگر اللہ جسے بانجھ بنا دے یا اولاد نہ دینا چاہے وہ خواہ کتنے ہی جتن کر دیکھے اس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔ اس کی دوسری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے ہاں بیٹے ہوں بیٹیاں نہ ہوں۔ لیکن اللہ بعض لوگوں کو بیٹیاں ہی دیئے جاتا ہے اور اس طرح بعض دفعہ بڑے بڑے متکبروں کی اکڑ توڑ کے رکھ دیتا ہے اور وہ کچھ بھی مداوا نہیں کرسکتے۔ اور کسی کو ایک آدھ لڑکی کی خواہش کے باوجود صرف لڑکے ہی لڑکے دے دیتا ہے کبھی کسی کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوجاتے ہیں اور کسی کے ہاں بیک وقت تین، چار، پانچ بچے بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ بالخصوص جب سے دنیا میں خاندانی منصوبہ بندی کا چرچا شروع ہوا ہے۔ ایسے واقعات بکثرت سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ گویا قدرت کی طرف سے خلاف فطرت کام کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ الغرض انسان اولاد کی تمنا رکھنے کے باوجود اس مسئلہ میں اس قدر بےبس ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسری ہستی کوئی بت کوئی آستانہ اور کوئی پیر پیغمبر اس کی کچھ مدد نہیں کرسکتے۔ بلکہ پیغمبر اس سلسلہ میں خود بھی ایسے ہی بےبس ہیں جیسے عام انسان مثلاً سیدنا لوط (علیہ السلام) اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیاں ہی بیٹیاں تھیں۔ بیٹا کوئی نہ تھا۔
Top