Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 50
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
اَوْ يُزَوِّجُهُمْ : یا ملا جلا کردیتا ہے ان کو ذُكْرَانًا : لڑکے وَّاِنَاثًا : اور لڑکیوں (کی شکل میں) وَيَجْعَلُ : ور بنا دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے عَقِيْمًا : بانجھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : علم والا ہے، قدرت والا ہے
یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
50: اَوْیُزَوِّجُھُمْ (یا ان کو جمع کر کے دیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی) ذُکْرَانًا وَّ اِنَا ثًا وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآ ئُ عَقِیْمًا (مذکر اور مؤنث اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے) جب انسان کو رحمت چکھانے کا تذکرہ فرمایا گیا۔ اور انسان کو اس کی ضد کے پہنچ جانے کا تذکرہ ہوچکا تو اس کے بعد توحید کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ بادشاہ مطلق ہیں۔ وہی نعمتیں اور نقمتیں تقسیم کرتا ہے جس طرح وہ ارادہ فرماتا ہے اور اپنے بندوں کو جو چاہتا ہے اولاد نصیب کردیتا ہے بعض کو صرف بیٹیاں اور بعض کو صرف بیٹے اور بعض کو دونوں قسمیں اور بعض کو بےاولاد رکھتا ہے۔ ( یہ سارے اس کی قدرت کے کرشمے ہیں) العقیم جو اولاد جننے کے قابل نہ ہو۔ رجل عقیم وہ مرد جو اولاد کے لائق نہ ہو۔ یہاں مؤنثات کو مذکروں پر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ سیاق کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں نہ وہ کچھ جو انسان چاہے پس ان بیٹیوں کا تذکرہ کہ جن کو انسان نہیں چاہتا کہ پیدا ہوں۔ تو ان کا تذکرہ زیادہ اہم تھا۔ اس لئے مقدم کردیا اور تاکہ وہ جنس قریب ہو جس کو ذکر کرنا عرب کے لوگ مصیبت سمجھتے تھے۔ بلاء کا ذکر بلاء کے قریب ہوجائے۔ جب مذکروں کو مؤخر کیا حالانکہ وہ مقدم کرنے کے لائق ہیں۔ تو ان کی تاخیر ذکری کا تدارک ان کی تعریف سے فرما دیا۔ کیونکہ معرفہ لانے میں تشہیر اور شان کو بڑھانا ہے۔ پھر ہر دو جنس کو تقدیم و تاخیر کا حق دیا جاتا رہا۔ اور یہ بتلا دیا کہ عورتوں کا پہلے ذکر کرنا ان کے تقدیم مرتبہ کی علامت نہیں بلکہ اور وجہ سے ہے پس فرمایا ذکرانا واناثًا۔ انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق نازل ہوئی۔ اس لئے کہ لوط (علیہ السلام) کو فقط بیٹیاں دیں اور شعیب کو بھی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو فقط بیٹے اور محمد ﷺ کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں دیں۔ یحییٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کو بےاولاد رکھا۔ (مگر عیسیٰ (علیہ السلام) تو آخری زمانہ میں اتریں گے ان کے ہاں اولاد ہوگی جیسا کہ احادیث میں مصرح ہے،۔ مترجم) اِنَّہٗ عَلِیْمٌ (بیشک وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے) قَدِیْرٌ (وہ ہر چیز پر قادر ہے)
Top