Tafheem-ul-Quran - Ash-Shura : 50
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
اَوْ يُزَوِّجُهُمْ : یا ملا جلا کردیتا ہے ان کو ذُكْرَانًا : لڑکے وَّاِنَاثًا : اور لڑکیوں (کی شکل میں) وَيَجْعَلُ : ور بنا دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے عَقِيْمًا : بانجھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : علم والا ہے، قدرت والا ہے
جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں مِلا جُلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ 77
سورة الشُّوْرٰی 77 یہ اللہ کی بادشاہی کے مطلق (Absolute) ہونے کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے۔ کوئی انسان، خواہ وہ بڑے سے بڑے دنیوی اقتدار کا مالک بنا پھرتا ہو، یا روحانی اقتدار کا مالک سمجھا جاتا ہو، کبھی اس پر قادر نہیں ہوسکا ہے کہ دوسروں کو دلوانا تو درکنار، خود اپنے ہاں اپنی خواہش کے مطابق اولاد پیدا کرسکے۔ جسے خدا نے بانجھ کردیا وہ کسی دوا اور کسی علاج اور کسی تعویذ گنڈے سے اولاد والا نہ بن سکا، جسے خدا نے لڑکیاں ہی لڑکیاں دیں وہ ایک بیٹا بھی کسی تدبیر سے حاصل نہ کرسکا، اور جسے خدا نے لڑکے ہی لڑکے دیے وہ ایک بیٹی بھی کسی طرح نہ پاسکا۔ اس معاملہ میں ہر ایک قطعی بےبس رہا ہے، بلکہ بچے کی پیدائش سے پہلے کوئی یہ تک نہ معلوم کرسکا کہ رحم مادر میں لڑکا پرورش پا رہا ہے یا لڑکی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کوئی خدا کی خدائی میں مختار کل ہونے کا زعم کرے، یا کسی دوسری ہستی کو اختیارات میں دخیل سمجھے تو یہ اس کی اپنی ہی بےبصیرتی ہے جس کا خمیازہ وہ خود بھگتے گا۔ کسی کے اپنی جگہ کچھ سمجھ بیٹھنے سے حقیقت میں ذرہ برابر بھی تغیر واقع نہیں ہوتا۔
Top