Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 50
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
اَوْ يُزَوِّجُهُمْ : یا ملا جلا کردیتا ہے ان کو ذُكْرَانًا : لڑکے وَّاِنَاثًا : اور لڑکیوں (کی شکل میں) وَيَجْعَلُ : ور بنا دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے عَقِيْمًا : بانجھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : علم والا ہے، قدرت والا ہے
یا ان کو دیتا ہے جوڑے بیٹے اور بیٹیاں اور کردیتا ہے جس کو چاہے بانجھ وہ ہے سب کچھ جانتا کرسکتا7
7  یعنی سختی ہو یا نرمی سب احوال خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔ آسمان و زمین میں سب جگہ اسی کی سلطنت اور اسی کا حکم چلتا ہے جو چیز چاہے پیدا کرے اور جو چیز جس کو چاہے دے، جس کو چاہے نہ دے۔ دنیا کے رنگا رنگ حالات کو دیکھ لو۔ کسی کو سرے سے اولاد نہیں ملتی، کسی کو ملتی ہے تو صرف بیٹیاں، کسی کو صرف بیٹے، کسی کو دونوں، جڑواں یا الگ الگ۔ اس میں کسی کا کچھ دعویٰ نہیں۔ وہ مالک حقیقی ہی جانتا ہے کہ کس شخص کو کس حالت میں رکھنا مناسب ہے اور وہ ہی اپنے علم و حکمت کے موافق تدبیر کرتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس کے ارادہ کو روک دے یا اس کی تخلیق و تقسیم پر حرف گیری کرسکے، عاقل کا کام یہ ہے کہ ہر قسم کے نرم و گرم حالات میں اسی کی طرف رجوع کرے اور ہمیشہ اپنی ناچیز حقیقت کو پیش نظر رکھ کر تکبر یا کفران نعمت سے باز رہے۔
Top