Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 50
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
اَوْ يُزَوِّجُهُمْ : یا ملا جلا کردیتا ہے ان کو ذُكْرَانًا : لڑکے وَّاِنَاثًا : اور لڑکیوں (کی شکل میں) وَيَجْعَلُ : ور بنا دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے عَقِيْمًا : بانجھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : علم والا ہے، قدرت والا ہے
(کی صورت میں) جمع بھی کردتا ہے اور جسے چاہتا ہے لاولد رکھتا ہے بیشک وہ بڑا علم والا ہے، بڑا قدرت والا ہے،56۔
56۔ دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے۔ کسی کے اولاد خوب ہوتی ہے کوئی لاوالد رہتا ہے کسی کے صرف بیٹیاں ہوتی ہیں کسی کے صرف بیٹے، کسی کے دونوں۔ سو یہ سب کچھ محض اٹکل پچو، اندھا دھند نہیں ہورہا ہے، فرد، جماعت، کائنات سب کی بےانتہا حکمتوں اور بیشمار مصلحتوں کے پیش نظر ایک حکیم مطلق کے زیر انتظام ہورہا ہے۔ پھر اسی حکیم مطلق کی قدرت اور اختیارات بھی محدود نہیں، لامحدود ہیں۔ (آیت) ” یخلق مایشآء “۔ اس کی قوت تخلیق بھی غیر محدود ہے، جس کو جب اور جس طرح چاہے پیدا کرے۔ آیت میں عام قدرت الہی کا بیان ہے۔ کسی خاص واقعہ کی تعیین مراد نہیں، وقال الاکثرون من المفسرین ھذا الحکم عام فی حق الناس لان المقصود بیان نفاذقدرۃ اللہ فی تکوین الاشیاء کیف شاء واراد فلم یکن للتخصیص معنا (کبیر)
Top