Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 50
اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
اَوْ يُزَوِّجُهُمْ : یا ملا جلا کردیتا ہے ان کو ذُكْرَانًا : لڑکے وَّاِنَاثًا : اور لڑکیوں (کی شکل میں) وَيَجْعَلُ : ور بنا دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے عَقِيْمًا : بانجھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ : علم والا ہے، قدرت والا ہے
یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
(42:50) اویزوجھم : یزوج مضارع واحد مذکر غائب تزویج (تفعیل) مصدر زوج جوڑا۔ یزوج وہ جوڑا بناتا ہے۔ باہم ساتھی بناتا ہے (ان کو جمع کردیتا ہے ۔ (مولنا اشر علی (رح)) ۔ ان یجمع بنھما۔ دونوں کو جمع کردیتا ہے یعنی بیٹے بھی دیتا اور بیٹیاں بھی دیتا ہے۔ ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ (یعنی بیٹے اور بیٹیاں جو وہ عطا کرتا ہے) ۔ ذکر انا وانثا : ذکران، ذکر کی جمع۔ مرد، بیٹے۔ اور اناث انثی کی جمع عورتیں۔ بیٹیاں۔ دونوں ہم ضمیر سے حال ہیں۔ یجعل : مضارع واحد مذکر غائب جعل (باب فتح) مصدر۔ کرتا ہے۔ کردیتا ہے۔ عقیما۔ منصوب بوجہ یجعل کا مفعول ہونے کے۔ یا یہ یخلق سے بدل ہے۔ عقیم بانجھ اس لفظ کا استعمال مذکر اور مؤنث سب کے لئے آتا ہے یعنی مرد جس کے اولاد نہ ہوتی ہو اور عورت جو بانجھ ہو۔ مرد کے لئے آئیگا تو اس کی جمع عقما ہوگی ۔ اور اگر عورت کے لئے آئے گا تو اس کی جمع عقام ہوگی۔ عقم اصل میں اس خشکی کو کہتے ہیں جو اثر قبول کرنے سے مانع ہو چناچہ محاورہ ہے کہ :۔ عقمت م فاصلہ اس کے جوڑ خشک ہوگئے اور عقمت الرحم بچہ دانی خشک ہوگئی۔ عورتوں میں عقم اس کو بولتے ہیں جو مرد کے نطفہ کو قبول نہ کرے۔ عقیم بےخیر کو بھی کہتے ہیں قرآن مجید میں ہے اذا ارسلنا علیہم الریح العقیم (51:41) جب ہم نے ان پر خیر سے خالی ہوا بھیجی۔ علیم، علم سے فعیل کے وزن مبالغہ کا صیغہ ہے بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ قدیر۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر۔ قدرت والا۔ زبردست۔ خدا تعالیٰ کا اسم صفت قدیر اس ذات کو کہتے ہیں جو جو چاہے کرے اور جو کچھ کرے اس طرح کرے کہ تقاضائے حکمت کے بالمقابل مطابق ہو۔ اس سے ذرا ادھر ادھر نہ ہو اس لئے اس لفظ کا اطلاق بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور ذات پر جائز نہیں۔ (راغب)
Top