Urwatul-Wusqaa - Al-Mulk : 21
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
کیا وہ شخص جو منہ کے بل گرتے پڑتے چلنے والا ہو وہ سیدھی راہ پر ہوگا یا وہ شخص جو سیدھا ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہو
کیا منہ کے بل چلنے والا سیدھے راستے پر ہوگا یا وہ جو سیدھا ہموار چل رہا ہے 22 ؎ (مکتبا) کا اصل مادہ ک ب ب ہے۔ اسم فاعل واحد مذکر البات مصدر ، سرنگوں ، اوندھا۔ عرب کہتے ہیں کہ کبہ اللہ اللہ اس کو اوندھا گرا دے۔ اس طرح اوندھے منہ کسی کو گرانا یا اوندھے منہ گرانا دونوں پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں کافر کی حالت کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی جا رہی ہے جو سر اوندھا کئے ہوئے کسی راستہ پر چل رہا ہے نہ دائیں دیکھتا ہے نہ بائیں ، نہ اوپر اور نہ نیچے اس کی نظر پڑتی ہے اور اس حالت میں کسی وقت بھی وہ کسی چیز سے ٹکرا کر تباہ و برباد ہو سکتا ہے اور اس طرح وہ کسی بھی گڑھے میں گر کر اپنا آپ تباہ و برباد کرسکتا ہے اور ایسے شخص کا منزل مقصود تک پہنچنا نہایت ہی مشکل ہوجاتا ہے اور یہ مثال ہے اس شخص کی جو کفر پر ڈٹ گیا ہے اور ایک طرح سے اڑ کر رہ گیا ہے گویا وہ بہت ضدی اور بہت نکما آدمی ہے جو بغیر سوچے سمجھے چلا جا رہا ہے اور پھر اس آیت میں مومن کو ایسے شخص سے تشبیہ دی ہے جس نے سوچ سمجھ کر اور اچھی طرح دیکھ سمجھ کر ایک راہ اختیار کی ہے اور وہ راہ بھی بالکل سیدھی اور مستقیم ہے۔ اب دونوں میں اپنی منزل مقصود پر کون پہنچ سکتا ہے وہ جو کبڑا ہو کر چل رہا ہے یا وہ جو بالکل صاف اور ستھرے راہ پر سیدھا منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے۔ غور کرو کہ کون ہے جو یہ کہے گا کہ کبڑا ہو کر چلنے والا بھی کبھی سیدھی راہ پر گامزن ہے اور وہ بھی صحیح اور درست چلتا جا رہا ہے۔ پھر یہ بات سمجھنے کے باوجود جو سیدھی اور صاف راہ چھوڑ کر ٹیڑھی اور ناہموار راہ اختیار کرتا ہے اور یہ بات اتنی واضح اور اتنی صاف ہے کہ اس کی مزید وضاحت اور زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔
Top