Aasan Quran - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے
عبادت گاہ میں دو فریق کا داخلہ : 21: وَھَلْ اَتٰـکَ نَبَؤُ ا الْخَصْمِ (اور کیا آپ کو اہل مقدمہ کی خبر بھی پہنچی ہے) یہ بظاہر استفہام ہے اور اس کا مقصدعجیب خبر پر دلالت کرنا ہے۔ الخصم : الخصماءؔ یہ واحد و جمع دونوں پر بولے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ اصل میں مصدر ہے تم کہوگے خصمہ خصمًا۔ اذؔ یہ محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے وھل اتاک نبأ تحاکم الخصم یا بالخصم کیونکہ اس میں فعل کا معنی ہے۔ اِذْ تَسَوَّرُ وا الْمِحْرَابَ (جبکہ وہ عبادت خانہ کی دیوار پھاند کر آئے) اس کی دیوار پر چڑھ کر آپ کی طرف اتر آئے۔ السورؔ بلند دیوار المحراب کمرہ، بالاخانہ، یا عبادت گاہ یابرآمدئہ مسجد۔
Top