Tafseer-e-Madani - Saad : 64
اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠   ۧ
اِنَّ ذٰلِكَ : بیشک یہ لَحَقٌّ : بالکل سچ تَخَاصُمُ : باہم جھگڑتا اَهْلِ النَّارِ : اہل دوزخ
بلاشبہ یہ بات یعنی دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا قطعی طور پر حق (اور سچ) ہے1
74 اہل دوزخ کے باہمی جھگڑے کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اہل دوزخ کا باہم جھگڑنا اور ان کی یہ تو تکار ایک قطعی حقیقت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ دوزخیوں کا اس طرح باہم لڑنا جھگڑنا قطعی طور پر حق ہے۔ " ان " اور لام تاکید دونوں تاکیدوں کے ساتھ موکد کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ دوزخیوں کے لڑنے جھگڑنے کا یہ معاملہ قطعی طور پر حق و صدق ہے۔ ایسا بہرحال ہو کر رہے گا۔ پس ہر کسی کو چاہیئے کہ وہ بہرطور برے انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو جو لوگ دوزخیوں کے اس باہمی جھگڑے اور توتکار کے حقیقت اور واقع ہونے کے بارے میں شک کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں کہ یہ ایک امر واقعی ہے۔ اسے کوئی خواب و خیال نہ سمجھے۔ آج جو لوگ حق کی مخالفت میں ایک دوسرے کے لیڈر بنے ہوئے ہیں وہ کل کو پیش آنے والے اس انجام کے بارے میں خود سوچ لیں اور اس حق اور حقیقت کی روشنی میں ایسے لوگ اپنے رویے اور روش کی اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کے لیے کف افسوس ملنا پڑجائے اور اس وقت ان کے لیے تلافی وتدارک کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top