Madarik-ut-Tanzil - Saad : 64
اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠   ۧ
اِنَّ ذٰلِكَ : بیشک یہ لَحَقٌّ : بالکل سچ تَخَاصُمُ : باہم جھگڑتا اَهْلِ النَّارِ : اہل دوزخ
بیشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے
64: اِنَّ ذٰلِکَ (بیشک یہ بات) جو ہم نے ان کی طرف سے بیان کی ہے۔ لَحَقٌّ (بالکل سچی بات ہے) یہ سچائی ہر صورت پوری ہو کررہے گی وہ ضرور کلام کریں گے پھر بتلایا کہ وہ کیا بات سچی ہے فرمایا۔ تَخَاصُمُ اَھْلِ النَّارِ (جہنمیوں کا باہمی لڑناجھگڑنا) جب اللہ تعالیٰ نے ان کے باہمی لے دے اور گفتگو کو اس بات سے تشبیہ دی جو دو باہمی جھگڑے والوں میں ہوتی ہے۔ تو اس کو تخاصم سے تعبیر فرما دیا۔ کیونکہ سرداروں کا قول لا مرحبا بہم اور ان کے معتقدین کا قول بل انتم لا مرحبا بکم یہ خصومت و جھگڑے ہی کی قسم میں سے ہے۔ اس وجہ سے ان کی ساری گفتگو کو تخاصم کہہ دیا۔ کیونکہ ان کی باتوں میں مخاصمت پائی جاتی ہے۔
Top