Anwar-ul-Bayan - Saad : 64
اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠   ۧ
اِنَّ ذٰلِكَ : بیشک یہ لَحَقٌّ : بالکل سچ تَخَاصُمُ : باہم جھگڑتا اَهْلِ النَّارِ : اہل دوزخ
بیشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے
(38:64) تخاصم اہل النار : اہل النار مضاف مضاف الیہ مل کر تخاصم (مضاف) کا مضاف الیہ۔ اہل دوزخ کا باہمی رگڑا جھگڑا۔ تخاصم بروزن تفاعل مصدر ہے۔ ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑنا۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) اس آیت کی تشریح میں رقمطراز ہیں :۔ ان ذلک بیشک یہ جو کچھ دوزخیوں کے متعلق ہم نے بیان کیا لحق بلاشبہ صحیح ہے وہ ضرور ایسی گفتگو کریں گے۔ تخاصم یہ حق سے بدل ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے (ای ھو تخاصم) دوزخیوں کے باہم سوال و جواب اور آپس کی گفتگو فریقین معاملہ کی گفتگو کے مشابہ ہوگی۔ اس لئے اس کو تخاصم (باہمی جھگڑا رگڑا) فرمایا۔
Top