Al-Quran-al-Kareem - Saad : 47
وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ عِنْدَنَا : ہمارے نزدیک لَمِنَ : البتہ ۔ سے الْمُصْطَفَيْنَ : چنے ہوئے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے
اور بلاشبہ وہ ہمارے نزدیک یقینا چنے ہوئے بہترین لوگوں سے تھے۔
وَاِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْاَخْيَارِ : ”الْمُصْطَفَيْنَ“ ”مُصْطَفٰی“ کی جمع ہے، جو باب افتعال سے اسم مفعول ہے اور اصل میں ”مُصْتَفٰی“ ہے، صاد کی وجہ سے تاء کو طاء میں بدل دیا ”چُنے ہوئے۔“ ”الْاَخْيَارِ“ ”خَیْرٌ“ کی جمع ہے جو اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اصل میں ”أَخْیَرُ“ ہے، اس لیے اس کی جمع ”الْاَخْيَارِ“ آئی ہے ”سب سے بہتر لوگ۔“
Top