Tafseer-e-Madani - Saad : 47
وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ عِنْدَنَا : ہمارے نزدیک لَمِنَ : البتہ ۔ سے الْمُصْطَفَيْنَ : چنے ہوئے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے
اور بلاشبہ یہ سب کے سب ہمارے یہاں برگزیدہ نیک بندوں میں سے تھے
64 حضرات انبیائے کرام کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور چنے ہوئے بندے تھے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ یہ ہمارے چنے ہوئے نیک بندوں میں سے تھے "۔ یعنی یہ سب حضرات منصب نبوت کے لئے چنے ہوئے اور ہمارے خاص بندے تھے۔ ان کو بھی راہ حق میں ستایا گیا اور طرح طرح سے پریشان کیا گیا۔ مگر انہوں نے راہ حق میں صبر و استقامت ہی سے کام لیا۔ سو انجام کار کامیابی انہی کو اور ان کے سچے پیروکاروں ہی کو ملی۔ اور ان کے دشمن ہمیشہ کے لئے مٹ مٹا کر نیست و نابود ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان کو ہم نے دوسروں سے چن کر شرف نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دیا تھا۔ اور یہ ایسے خیر کے وجود تھے کہ ان سے اندیشہ کی کوئی بات نہیں تھی۔ سو اپنی اصل فطرت اور اپنے باطن کے لحاظ سے بھی یہ نہایت عمدہ اور پاکیزہ خصال کے لوگ تھے۔ اور ہمارے اصطفاء اور اختیار کی بنا پر یہ اور بھی اونچی شان کے مالک ہوگئے تھے۔ " اخیار "، " خیر " کی جمع بھی ہوسکتی ہے جو کہ اسم تفضیل ہے اور شر کی ضد ہے۔ اور یہ خیر کی جمع بھی ہوسکتی ہے جو کہ خیر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جیسے اموات جمع ہے میت کی۔ اور جن کو اللہ تعالیٰ نے چنا اور منتخب کیا ہو اور ان کو صاف اور صریح طور پر اخیار قرار دیا ہو ان کی عظمت شان کے کیا کہنے۔ سو حضرات انبیاء و رسل کی شان سب سے بڑی اور بلند ہوتی ہے اور وہ مخلوق کے لیے رشد و ہدایت کے مینارے ہوتے ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔ پس فوز و فلاح اور نجات و صلاح ان ہی کی اطاعت و اتباع سے نصیب ہوسکتی ہے اور ان کی ہدایات وتعلیمات سے اعراض و روگردانی باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top