Tafseer-e-Mazhari - Saad : 47
وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ
وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ عِنْدَنَا : ہمارے نزدیک لَمِنَ : البتہ ۔ سے الْمُصْطَفَيْنَ : چنے ہوئے الْاَخْيَارِ : سب سے اچھے
اور ہمارے نزدیک منتخب اور نیک لوگوں میں سے تھے
وانھم عندنا لمن المصطفین الاخیار اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور سب سے اچھے لوگوں میں تھے۔ ذِکْرَی الدَّار یعنی ہمیشہ دار آخرت کی یاد رکھنے اور لوگوں کو یاد دلانے کیلئے ہم نے ان کو مخصوص کرلیا تھا ‘ انبیاء کا یہی شیوہ ہوتا ہے۔ یہ یاد آخرت ‘ خلوص طاعت کا ذریعہ ہوتی ہے۔ انبیاء کے پیش نظر اور ان کا اصل مقصد اللہ سے ملنا اور مقام قرب میں پہنچنا ہوتا ہے اور یہ آخرت میں ہوگا ‘ اسلئے وہ آخرت کی یاد رکھتے ہیں۔ ذکری الدارکا ایک مطلب ذکرٰی صاحب الدار (بحذف مضاف) بھی بیان کیا گیا ہے ‘ یعنی دار الآخرت کے مالک کی یاد کیلئے اللہ نے ان کو مخصوص کرلیا تھا۔ صرف الدار بول کر دار آخرت مراد لینے سے اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقت میں رہنے کا ٹھکانا تو آخرت ہی ہے ‘ دنیا تو ایک گذرگاہ اور پل ہے ‘ رہنے کا مقام نہیں ہے ‘ اس کو دار کہا ہی نہیں جاسکتا۔ مالک بن دینار نے یہ مطلب بیان کیا کہ ہم نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور یاد نکال دی اور آخرت کی یاد و محبت کیلئے ان کو مخصوص کردیا۔ مقاتل نے کہا : وہ لوگوں کو آخرت کی طرف بلاتے تھے اور اللہ کی طرف آجانے کی دعوت دیتے تھے۔ سدی نے کہا : آخرت کا ڈر رکھنے کیلئے ان کو مخصوص کرلیا گیا تھا۔ ابن زید نے کہا : یہاں مضاف محذوف ہے ‘ یعنی ہم نے آخرت کی بہترین چیزوں کی یاد کیلئے ان کو مخصوص کرلیا تھا۔ وَاِنَّھُمْ عِنْدَنَا الخ یعنی ان کو ان جیسے دوسرے لوگوں پر اللہ نے برگزیدگی عطا کی تھی اور ان میں سے انہیں منتخب کرلیا تھا۔ اَخْیَار ‘ خَیْرکی یا خَیّر کی جمع ہے ‘ جیسے اموات ‘ مَیْت کی یا میّت کی جمع ہے۔
Top