Tafseer-e-Saadi - Yaseen : 10
وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
وَسَوَآءٌ : اور برابر عَلَيْهِمْ : ان پر۔ ان کے لیے ءَاَنْذَرْتَهُمْ : خواہ تم انہیں ڈراؤ اَمْ : یا لَمْ تُنْذِرْهُمْ : تم انہیں نہ ڈراؤ لَا يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان نہ لائیں گے
اور اے پیغمبر ان کافروں کو تو اللہ سے ڈرائے یا نہ ڈرائے دونوں ان کو برابر ہیں وہ (کبھی) ماننے والے نہیں13
13 اسکے یہ معنی نہیں ہیں کہ انہیں سمجھانا اور تبلیغ کرنا چھوڑ دیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ عام لوگوں کو سمجھائیں گے اور عام تبلیغ کرینگے تو آپ ﷺ کو دو قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آئیگا۔ ایک وہ لوگ جن پر آپ ﷺ کی تبلیغ کوئی اثر نہ کریگی اور وہ اپنے کفر و شرک پر بضد رہیں گے۔ اس آیت میں انہیں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ( بقرہ : 6)
Top