Tadabbur-e-Quran - Yaseen : 10
وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
وَسَوَآءٌ : اور برابر عَلَيْهِمْ : ان پر۔ ان کے لیے ءَاَنْذَرْتَهُمْ : خواہ تم انہیں ڈراؤ اَمْ : یا لَمْ تُنْذِرْهُمْ : تم انہیں نہ ڈراؤ لَا يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان نہ لائیں گے
اور ان کے لئے یکساں ہے، ان کو ڈرائو یا نہ ڈارئو، وہ ایمان نہیں لانے کے۔
وسواء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون (10) ظاہر ہے کہ اس طرح کے لوگ ایک سخت قسم کی عقلی و اخلاقی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا اصل مقصد کے لحاظ سے بالکل بےسود ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے۔ ان کو اگر انداز کیا جاتا ہے تو محض اتمام حجت کے لئے قیامت کے دن یہ کوئی عذر نہ پیش کرسکیں۔ سورة بقرہ کے شروع میں ختم قلوب پر جو بحث گزر چکی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔
Top