Ruh-ul-Quran - Yaseen : 10
وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ
وَسَوَآءٌ : اور برابر عَلَيْهِمْ : ان پر۔ ان کے لیے ءَاَنْذَرْتَهُمْ : خواہ تم انہیں ڈراؤ اَمْ : یا لَمْ تُنْذِرْهُمْ : تم انہیں نہ ڈراؤ لَا يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان نہ لائیں گے
اور ان کے لیے یکساں ہے آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، وہ ایمان نہیں لائیں گے
وَسَوَآئٌ عَلَیْہِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 10) (اور ان کے لیے یکساں ہے آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ) گزشتہ دو آیتوں میں جن ہٹ دھرم اور متکبرین کی تصویرکشی کی گئی ہے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ آپ ان لوگوں کو انذار کریں یا نہ کریں انہیں جونک لگنے والی نہیں، یہ کبھی آپ کی بات سن کر نہیں دیں گے۔ ہٹ دھرمی اور استکبار نے ان کی عقلوں اور اخلاق کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، اس لیے اب ایمان قبول کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ البتہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ تبلیغ و دعوت کا کام ترک کردیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں لوگوں کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جن کے اندر حقیقت کو قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہیں تلاش کرنا اور ان تک حق کی دعوت پہنچانا یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ تبلیغ و دعوت کے کام کو جاری رکھیں۔ جس طرح اچھی زمین اپنے اندر کے پھول پتے پیدا کرکے اور اپنے اندر بارش کو جذب کرکے اپنے وجود کا احساس دلا دیتی ہے، اسی طرح تبلیغ و دعوت کی بارانِ رحمت سے ایسے لوگوں کا وجود آپ سے آپ ظاہر ہو کے رہتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ قبولیتِ حق سے محروم لوگ ایسے لوگوں تک جلدی دعوت کو پہنچنے نہیں دیتے۔ اس لیے داعی الی اللہ کو چاہیے کہ جیسے جیسے دعوت کے امکانات مشکل ہوتے جائیں ویسے ویسے وہ اپنے کام میں تیزی پیدا کرتا جائے۔ حدی را تیز تر می خواں چوں محمل را گراں بینی نوا را تیز تر می کن چوں اثر نغمہ کمیابی
Top