Asrar-ut-Tanzil - Yaseen : 22
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وَمَا : اور کیا ہوا لِيَ : مجھے لَآ اَعْبُدُ : میں نہ عبادت کروں الَّذِيْ : وہ جس نے فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹ کر جاؤ گے
اور مجھے کیا ہوا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا اور تم سب کو (بھی) اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 32: اسرار و معارف : اس کی بات کیا مانتے الٹا اسے بھی کہنے لگے کہ تم بھی یہ نیا دین کیوں اپنا رہے ہو بھلا باپ دادا کا مذہب خراب تھا کیا یا وہ سب گمراہ تھے تو اس نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں ہے کہ میں اس ذات کریم کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے قائم رکھا ہے نیز اس کے یہی احسانات تم سب پر بھی ہیں اور پھر بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی سب کو پلٹ کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور اپنے کردار و عمل کا حساب دینا ہے پھر کتنی احمقانہ بات ہے کہ میں اس اتنے بڑے مہربان کو چھوڑ کر کسی بھی دوسرے کو معبود بنا لوں کہ اگر وہ ناراض ہو کر مجھے سزا دے تو یہ بت یا وہ جس کی اس کے علاوہ میں اطاعت اختیار کروں اس کے مقابلے میں مجھے کچھ بھی کام نہ آسکے چھڑانا تو درکنار میری سفارش بھی نہ کرسکے کہ اس کے ہاں سفارش بھی اسی کی ہوگی جس کی اس نے اجازت دی ہو اور اس کے مقرب ہی کرسکیں گے ہر کوئی تو سفارش کی جرات بھی نہ کرسکے گا۔ یہ سب تو کھلی گمراہی ہے کہ میں دیکھتی آنکھوں کفر کے اندھے کنویں میں گر جاؤ انہوں نے غلط بحث کی طرف لا کر الجھانے کی کوشش کی جس کا جواب یہاں ارشاد ہوا کہ اللہ کے اس بندے نے کج بحثی میں الجھنے کی بجائے پھر دلیل سے بات کی اور ساتھ یہ اعلان بھی کردیا کہ اپنے پروردگا جو تمہارا پالنے والا بھی ہے ایمان رکھتا ہوں اور اچھی طرح جان لو کہ مجھے تمہارا کافرانہ عقائد سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں۔ مفسرین کے مطابق قوم نے اسے ظلما شہید کردیا تو ارشاد ہوا کہ اے میرے بندو جنت میں داخل ہوجا گویا جنت اس کی راہ دیکھ رہی تھی۔ یہ سوال کہ جنت کا داخلہ تو حشر کے بعد ہوگا درست مگر حدیث شریف کے مطابق ہر قبر یا جنت کا باغ ہے اور یا دوزخ کا گڑھا کہ برزخ میں جو قیام کی جگہ ہے وہ بھی یا جنت سے متعلق ہے یا دوزخ سے اور دوسری رائے مفسرین کی یہ ہے کہ انبیاء کی صحبت میسر آنے سے اس کی قوت مشاہدہ اور کشف عود کر آئی اور اسے جنت دنیا میں ہی دکھا دی گئی کہ یہ تیرا گھر ہے اور یہ ممکن بھی ہے اور صحابہ کرام اور اولیاء اللہ سے یہ مشاہدہ ثابت بھی۔ تو اس نے کہا کاش میری قوم کو اس کی خبر ہوجائے کہ میرے پروردگار کی بخشش نے میرا دامن بھر دیا اور مجھے اپنے قرب سے نواز کر بہت ہی عزت عطا فرمائی۔ جب یہ دلیل بھی ان پہ اثر نہ کرسکی تو اللہ نے انہیں مہلت نہ دی اور ان کے لیے کوئی خاص لشکر تیار نہ کرنا پڑا کہ آسمانوں سے اتارا جائے نہ ہی اللہ ایسی باتوں کا محتاج ہے وہاں تو صرف ایک کڑک اس زور کی پڑی کہ وہ سب چراغ سحر کی لو کی طرح تھرا کر بجھ گئے اور ساری بستی زندگی کی رعنائیوں سے محروم ہو کر عبرت کا سامان بن گئی ایک ہیبت ناک آواز نے سب کو تباہ کردیا۔ وائے حسرت ہے ایسے بندوں پر جن کے پاس اللہ کا رسول آئے اور وہ اس کا مذاق آرائیں دین سے اور دین لانے والے نبی سے مذاق غضب الہی کو دعوت دینے والی بات ہے جبکہ یہ دیکھ رہے ہی کہ ان سے پہلے اس جرم میں کتنی قومیں تباہ ہوگئیں جو اب واپس صفحہ ہستی پر نہ آسکیں گی اور پھر بات اس تباہی و بربادی پہ تمام نہ ہوئی بلکہ ان سب کو بیک وقت جمع ہو کر ہماری بارگاہ میں حاضر نہ ہونا اور جواب دینا ہے۔
Top