Ruh-ul-Quran - Yaseen : 22
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وَمَا : اور کیا ہوا لِيَ : مجھے لَآ اَعْبُدُ : میں نہ عبادت کروں الَّذِيْ : وہ جس نے فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹ کر جاؤ گے
اور میں کیوں نہ بندگی کروں اس ہستی کی جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے
وَمَا لِیَ لَآ اَعْبُدُالَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 22) (اور میں کیوں نہ بندگی کروں اس ہستی کی جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ ) قوم کی ملامت کا جواب اسلوبِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس مخلص بندے کی تقریر کے جواب میں اس بپھری ہوئی قوم نے اس کی مخلصانہ دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اسے ملامت شروع کردی کہ تم ایسا لگتا ہے کہ ان رسولوں سے کوئی سازباز کرچکے ہو۔ یا ان کے خفیہ ایجنٹ ہو۔ تم پروگرام کے تحت عین وقت پر ان کی حمایت کے لیے پہنچے ہو تاکہ تم لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوسکو۔ تم درحقیقت دین آبائی کے دشمن ہو اور اس کے لیے تم نے قوم کی ہمدردی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ چناچہ قوم کی ملامت کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے اس مخلص بندے نے یہ کہا کہ تمہاری ملامت اپنی جگہ اور تمہارا دین آبائی پر تعصب بھی اپنی جگہ، لیکن میں تم سے صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ میں نے تمہارے مشرکانہ رویئے کے برعکس ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی کا عہد کیا ہے۔ تو تم مجھے بتائو کہ آخر اس میں کیا قباحت ہے۔ آخر میں اس ذات کی بندگی کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا۔ یعنی میں اپنے خالق اور مالک کی بندگی کروں تو تم مجھے ملامت کرتے ہو۔ اور تم اپنے مصنوعی معبودوں کو پکارو اور ان کی بندگی بجا لائو جبکہ انھوں نے نہ تمہیں پیدا کیا اور نہ تمہاری ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ تو تم اپنے رویے میں بالکل صحیح ہو۔ تم خود دونوں باتوں میں تقابل کرکے دیکھو۔ کیا میرا رویہ اور میرا فیصلہ انصاف کے مطابق ہے یا تمہارا رویہ۔ اور دوسری بات اس مخلص بندے نے یہ کہی کہ ایک دن تمہیں بھی مرنا اور اسی خدا کی طرف جانا ہے جس کی بندگی پر آج تمہیں اعتراض ہے۔ ذرا غور کرو کہ جب اس کے سامنے پیشی ہوگی۔ تو اس کی بندگی سے انکار کا کیا جواب دو گے۔
Top