Tafseer-e-Usmani - Yaseen : 22
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وَمَا : اور کیا ہوا لِيَ : مجھے لَآ اَعْبُدُ : میں نہ عبادت کروں الَّذِيْ : وہ جس نے فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹ کر جاؤ گے
اور مجھے کیا ہے کہ اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے
آیت 22 اس شخص نے کہا : (ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون) یعنی میرے لئے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کو نسی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندے کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کرسکتی ہیں نہ محروم کرسکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کرسکتی ہیں۔ اس لئے اس نے کہا : (آیت) ” اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائے تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی “ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کرسکے گا، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔ (انی اذا) ” بیشک میں سا وقت “ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو (لفی ضلل مبین) ” صریح گمراہی میں ہوں۔ “ اس کے اس تمام کلام میں ان کی خیر خواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل وبراہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا : (انی امنت بربکم فاسمعون) ” میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔ “ جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کردیا۔ (قیل) اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا : (ادخل الجنۃ) ” جنت میں داخل ہوجا “ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیر خواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا (یلیت قومی یعلمون، بما غفرلی ربی) کا شچ میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کردیا (وجعلنی من المکرمین) اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا : (آیت) ” اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔ “ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لئے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لئے آسمان سے فوج اتارنی پڑے (وما کنا منزلین) ” اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔ “ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لئے کافی ہے۔ (ان کانت) یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب (الا صیحۃ واحدۃ) ” مگر ایک چیخ ہی “ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا (فاذا ھم خبدون) ” تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔ “ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہوگئے۔ وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بےجان ہوگئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوقات کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ “ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔
Top