Mafhoom-ul-Quran - Al-Baqara : 93
وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ
وَلِلّٰهِ : اور اللہ کے لیے مُلْكُ : بادشاہت السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَ : اور اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف الْمَصِيْرُ : لوٹ کر جانا
پھر ذرا اس میثاق کو یاد کرو، جو طور کو تمہارے اوپر اٹھا کر ہم نے تم سے لیا تھا ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو۔ تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سن لیا، مگر مانیں گے نہیں۔ اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا۔ کہ دیجئے ! اگر تم مومن ہو تو یہ عجیب ایمان ہے جو ایسی بری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے
یہود کی گوسالہ پرستی تشریح : بینات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے مثلاً عصاء، یدبیضا دریا کا پھٹنا ان کا ذکر تفصیل سے گزشتہ آیات میں ہوچکا ہے۔ یہاں ذکر اس لئے کیا گیا یہ بھی تمہارے کفر کی دلیل ہیں۔ گائے کی پرستش کا واقعہ اگرچہ ان یہودیوں کے ساتھ پیش نہیں آیا تھا جو حضور ﷺ کے زمانے میں نزول قرآن کے وقت موجود تھے۔ مگر چونکہ یہ اپنے آباؤو اجداد کے حامی و طرف دار تھے اس لئے اس کو دہرایا گیا ہے اور اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن کے اسلاف نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے کفر کیا وہ اگر محمد ﷺ پر ایمان نہ لائیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں، کیونکہ اس وقت کے یہودی ہر بات میں اپنے اسلاف کا ہی حوالہ دیتے ہیں جو ان کے کفر کی دلیل ہے۔ ان تمام حالات کے باوجود یہودی جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا تھے کہ جنت کے وارث تو یہی ہونگے اگلی آیات اسی موضوع پر بحث کرتی ہیں۔
Top