Maarif-ul-Quran - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے ؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا
تنبیہ وتوبیخ برانکار رسالت سید المرسلین ﷺ ومقابلہ قدرت رب العالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ ، (آیت ) ”۔ ء انزل علیہ الذکر ...... الی ....... قبل یوم الحساب “۔ کفار مکہ کے دوسرے شبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا نازل کیا گیا ہے یہ ذکر اور کتاب نصیحت یعنی قرآن ہم سب میں سے صرف اسی شخص پر حالانکہ نہ یہ کوئی دولت مند ہے اور نہ کسی بستی کا سردار ہے حقیقت اس طرح نہیں ہے کہ اگر انکی خواہش کے مطابق قرآن کسی بستی کے سردار یا دولت مند پر اتارا جاتا تو یہ لوگ اسکی اتباع کرلیتے جیسے ان کا یہ قول قرآن کریم نے نقل کیا (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “۔ کہ کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دوبستیوں مکہ اور طائف کے کسی بڑے سربرآوردہ شخص پر بلکہ ان لوگوں کا عقل وفہم سے بعید باتیں کرنا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ابھی ہمارا عذاب چکھائیں نہیں ہے اگر عذاب کا مزہ چکھ لیں تو ایسی سب باتیں بھول جائیں گے خدا کی طرف سے دی ہوئی ڈھیل اور مہلت سے مغرور ومتکبر ہوگئے ہیں انسان کی یہ بڑی ہی غلطی ہے کہ خداوند عالم کے حلم و درگذر کو فراموش کرکے اسکے مقابلہ وشرکشی پر آمادہ ہوجائے ان کفار کا یہ احمقانہ قول کہ آپ ﷺ ہی پر وحی الہی کیوں نازل کی گئی ایک ناقابل عفوگستاخی ہے کیا انکے پاس اے ہمارے پیغمبر آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو بڑا ہی غالب وزبردست اور خوب عطا کرنے والا ہے پھر یہ کون ہوتے ہیں کہ اللہ کے انعام و رحمت کو روک لیں یا اس پر کوئی نکتہ چینی کرے وہ اپنی حکمت و دانائی سے جس کسی بشر کو چاہے منصب نبوت و رسالت سے نواز دے یا ان کے پاس کیا حکومت ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ اسکے درمیان ہے اس بناء پر وہ اس بارے میں حجت بازی کررہے ہیں، اور ایسا انداز اختیار کررہے ہیں کہ وہ خدا کے فیصلوں کا مقابلہ کریں گے اگر بالفرض ایسا ہے تو ان کو چاہئے کہ چڑھ جائیں رسیاں تان کر اور جتنے بھی وسائل واسباب انکی قدرت میں ہیں سب کو کام میں لے آئیں اور وحی الہی جو ملاء اعلی سے آپ ﷺ پر اترتی ہے علویات پر چڑھ کر اسکو روک دیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں آسمان و زمین کی حکومت اور وہاں کے خزائن کے مالک تو کیا ہوتے یہ تو ایک بھیڑ ہے اس جگہ جسکی شکست کا فیصلہ ہوچکا ہے ایسے ہی شکست خوردہ لشکروں سے یہ شکصت خوردہ جماعت اللہ اور اسکے رسول کا کیا مقابلہ کرے گی ان سے پہلے جھٹلاچ کی قوم نوح اور قوم عاد اور فرعون میخوں والا۔ (1) ۔؂ 1۔ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ فرعون جب کسی کو سزا دیتا تو ہاتھوں میں میخیں ٹھوک کر لٹکانے کا حکم کرتا اور اس کو اسی طرح لٹکایا جاتا عر بی لغت کے اعتبار سے اور تاد جمع وتد کی ہے جسے کے معنی میخ اور کھونٹی، بعض مفسرین نے اسکی تفسیر میں فرعون کی شان عظمت اور سلطنت کی پائداری کا مفہوم ذکر کیا ہے کہ وہ کھونٹوں والا تھا یعنی اس نے اپنی سلطنت اور اقتدار کے کھونٹے گاڑ دیتے تھے بعض اہل لغت نے اوتاد بمعنی جنود یعنی لشکر کہا ہے تو ترجمہ لشکروں والا کیا جائے اور ظاہر ہے کہ فرعون کی فرعونیت ان تینوں صورتوں میں پائی جارہی ہے۔ اور ثمود اور قوم لوط اور ایکہ والے ان سب نے ہی رسولوں کو جھٹلایا مگر انکی تکذیب و انکار سے نہ اللہ کے دین کو نقصان پہنچا اور نہ اسکے رسول ناکام ہوئے بلکہ میرا عذاب ہی ان پر ثابت ومسلط ہوا ان طاقتور قوموں کے عبرتناک واقعات سے چاہئے تو یہ تھا کہ اہل مکہ اپنی سرکشی سے باز آتے اور عبرت ونصیحت حاصل کرتے تأمل وتردد کی عقلا تو کوئی گنجائش نہ تھی سمجھ میں نہیں آسکتا اب کس چیز کا انتظار کررہے ہیں معلوم ہوتا ہے اور نہیں انتظار کررہے ہیں یہ اہل مکہ کسی چیز کا مگر ایسی ہیبت ناک چیخ کا جس کا واسطے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی اور ایک ہی لمحہ میں سب یہ منکرین بڑی شدت کے ساتھ انکار ورد کررہے ہیں یہی نہیں کہ ان حقائق سے عبرت پکڑتے، گساخی کی یہ انتہا ہے اور یہ بھی کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو ہمارا پروانہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے لیکن ظاہر ہے کہ یہ گستاخی اور تمسخر اسی وقت تک ہے جب تک عذاب اور قہر خداوندی نہیں اترتا اور جب قہر خداوندی نازل ہوگا تو ایک لمحہ کی بھی مہلت نہ مل سکے گی اسی طرح قیامت پر نفخ صورہی انکو ایک لمحہ کی مہلت نہ لینے دے گا۔ ان آیات میں منکرین کے انکار رسالت اور انکار قیامت کا رد کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی اور اس ضمن میں یہ ظاہر فرما دیا گیا کہ آپ ﷺ کی مخالفت اور مقابلہ کرنے والے ناکام و ذلیل ہوں گے اور اللہ رب العزت آپ ﷺ کو کامیابی وسربلندی عطا فرمائے گا اہل مکہ کا یہ کہنا کہ انہی پر کیوں وحی اتاری گئی اور قرآن کریم مکہ وطائف کے سرداروں میں سے کسی سردار پر کیوں نہ اتارا گیا مہمل اور بےمعنی بات ہے کیا ان کے پاس رحمت کے خزائن ہیں اور یہ اسکے مالک ہیں کہ جس کو چاہیں رحمت سے نوازنے کے لئے مخصوص کردیں یا انکے پاس آسمانوں اور زمین کی حکومت ہے کہ علویات سے نازل ہونے والی رحمتوں اور وحی کو روک سکتے ہیں اور زمین پر انکی حکمرانی ہے کہ عالم زمین پر اترنے والی وحی کو پیغمبر کی بجائے کسی دوسرے کیلئے مختص کردیں جب نہ یہ آسمان کی کسی چیز پر قدرت رکھتے ہیں اور نہ فرشتوں کو وحی لانے سے روک سکتے ہیں نہ زمین پر کوئی تصرف کرسکتے ہیں تو پھر عقلا ان لوگوں کا اس پر نکتہ چینی کرنا بےمعنی اور احمقانہ فعل ہے حق تعالیٰ نے ان کی تعجیزوتحمیق کرتے ہوئے فرما دیا کہ یہ لوگ محض چند انسانوں کی ایک بھیڑ ہے جن کے لئے شکست مقدر ہوچکی ہے چناچہ یہ منظر بدر سے لے کر فتح مکہ تک دیکھ لیا گیا۔ لفظ (آیت ) ” جند ما ھنالک “۔ سے قریش کے لوگ ہی مراد ہیں لفظ ما کے متعلق بعض ایمہ نحو کی رائے یہ ہے کہ زائد ہے اور بعض کی رائے یہ ہے یہ تحقیر اور تقلیل کے لیے ہے قتادہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس گروہ کے شکست کی خبر دی جیسے کہ دوسرے موقع پر ارشاد ہے ، (آیت ) ” سیھزم الجمع ویولون الدبر “۔ تو اس خبر کے ساتھ سابقہ قوموں کی تباہی کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کرنے والوں پر تنبیہ وتہدید کے ساتھ حجت قائم کردی۔ اس کے ساتھ انکار قیامت پر بھی رد کردیا گیا کہ ان لوگوں کا یہ مطالبہ (آیت ) ” عجل لنا قطنا “۔ کہ ہمارا پروانہ ہمیں جلدی ہی دیجدیجیئے یوم حساب سے پہلے ہی درحقیقت ایسا مطالبہ اور اس کی جرأت صرف اسی وجہ سے ہے کہ نہ خدا کی قدرت پر انکو ایمان ہے اور نہ قیامت کا یقین حافظ ابن کثیر (رح) اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ مجاہد (رح) ضحاک (رح) اور حسن بصری (رح) سے نقل کرتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ قتادہ (رح) نے یہ بھی بیان کیا یہ بات وہی ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں فرمایا گیا کہ کفار مکہ شقاوت وبدبختی سے یہ کہا کرتے تھے۔ اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوئتنا بعذاب الیم۔ اے اللہ اگر یہ بات حق ہے تیری طرف سے تو پھر ہمارے اوپر آسمان سے پتھروں کی بارش کردے یا اور کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آئیے، تو اس کا بھی رد کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ عذاب خداوندی کے نزول سے قبل کی باتیں ہیں، عذاب خداوندی جب بھی نازل ہوا کوئی قوم اس سے نہیں بچ سکی اسی طرح یہ لوگ بھی نہ عذاب سے بچ سکیں گے اور نہ ہی قیامت ٹل سکے گی تو سورة ص کی ان ابتدائی آیات میں قرآنی عظمت وشرف کو بیان کرتے ہوئے پہلے توحید خداوندی کو ثابت کیا گیا اسکے بعد نبوت و رسالت کا اثبات اور مکذبین رسل کی تباہی و بربادی کا ذکر فرمایا گیا اور ان واقعات ہلاکت کو بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو صبر کی تلقین کی گئی جیسے کہ دوسرے موقع پر ارشاد ہے (آیت) ” فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل “۔ یعنی آپ ﷺ بھی اسی طرح صبر و تحمل کیجئے جیسا کہ آپ ﷺ سے پہلے اولو العزم رسولوں نے صبر اور ہمت سے کام لیا اسی مناسبت سے آیندہ آیات میں ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
Top