Tafseer-e-Madani - Yaseen : 22
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ
وَمَا : اور کیا ہوا لِيَ : مجھے لَآ اَعْبُدُ : میں نہ عبادت کروں الَّذِيْ : وہ جس نے فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف تُرْجَعُوْنَ : تم لوٹ کر جاؤ گے
اور میرے لئے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ میں بندگی نہ کروں اس (معبود برحق) کی جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے اور تم سب کو بہرحال اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے1
26 عبادت و بندگی خالق ہی کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالی : سو اس بندئہ مومن نے کہا کہ " میرے لیے کیا عذر ہوسکتا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے "۔ سو اس سے اس داعی حق کے صدق و اخلاص کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ سو اخلاص و دردمندی ملاحظہ ہو کہ وہ بندئہ خدا خطاب ان لوگوں کو نہیں اپنے آپ کو کرتا ہے تاکہ وہ کہیں ضد میں آ کر حق کا انکار نہ کردیں۔ سو اس سے دعوت الی اللہ کا ایک اہم اور بڑا بنیادی اصول بھی ملتا ہے کہ طیش آمیز اور طنزیہ کلام و کام سے بچا جائے۔ نیز یہ کہ جب انسان کو پیدا اس وحدہ لاشریک نے کیا ہے تو عبادت و بندگی بھی اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے کہ جب خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے تو معبود برحق بھی یقینا وہی ہے۔ اس لیے عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس میں کسی بھی اور ہستی کو شریک ماننا ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 27 سب کا رجوع بہرحال اللہ ہی کی طرف : سو اس بندئہ مومن نے ان لوگوں کو اس کے انجام کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ان سے کہا " اور تم سب کو لوٹ کر اسی کی طرف جانا ہے "۔ سو تم مانو یا نہ مانو، چاہو یا نہ چاہو، حقیقت بہرحال یہی ہے کہ تم سب نے آخر کار بہرحال لوٹ کر اسی کے پاس جانا اور اس کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ پھر کسی کو وہاں پر ہمیشہ کا آرام نصیب ہوگا اور اس کو وہ وہ نعمتیں ملیں گی جن کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ ہم سب کو انہی لوگوں میں سے کرے ۔ آمین۔ جبکہ اس کے برعکس دوسروں کو وہاں پر ہمیشہ کیلئے عذاب اور وہ عذاب بھگتنا ہوگا جس کو یہاں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ پس تم لوگ اپنے اس ابدی اور دائمی انجام کی فکر کرو۔ اور اس کا طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ اللہ کے رسولوں کی پیروی کی جائے کہ آخرت کا وہ جہاں کلیہ غیب کا جہاں ہے جسکے بارے میں جاننے کی کوئی صورت ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ کے ان رسولوں کی بات مانی جائے جن کے پاس غیب سے وحی آتی ہے۔ انہی کی پیروی کی جائے اور وہ جیسا کہیں ویسا ہی کیا جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ۔ { اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ } ۔ کے خطاب سے اس بندئہ مومن نے ان متکبر لوگوں کے قلوب و ضمائر پر ایک زوردار دستک دیتے ہوئے ان سے کہا کہ آج تم لوگ اپنے کبر و غرور کے نشے میں جس خدائے واحد اور معبود برحق کی عبادت و بندگی سے اس شد و مد اور زور و قوت کے ساتھ مجھے روکنے کی کوشش کر رہے ہو۔ ایک روز بہرحال تم سب کو اس کے حضور حاضر ہونا اور جواب دینا ہے۔ سو اب تم لوگ اپنے بارے میں خود سوچ کرو اور غور کرلو۔
Top