Madarik-ut-Tanzil - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا
69: مَاکَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍم بِالْمَلَاِ الْاَ عْلٰٓی اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ (مجھے عالم بالا کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے) اس سے آپ کی نبوت کے صحیح ہونے پر استدلال کیا گیا کہ آپ ملا ٔ اعلی کی باہمی گفتگو کی اطلاع دے رہے ہیں۔ جس کا آپ کو پہلے بالکل علم نہ تھا۔ پھرا سکو جان لیا اور جاننے کیلئے وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو لوگ اختیار کرتے ہیں کہ جس کو نہیں جانتے اس کو اس علم کے جاننے والوں سے اخذ کرتے اور لیتے ہیں اور کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جب یہاں ان میں سے کوئی ذریعہ ثابت نہیں تو ثابت ہوا کہ وحی سے ہی معلوم ہوئی ہے۔
Top