Al-Quran-al-Kareem - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھے سب سے اونچی مجلس کے متعلق کبھی کچھ علم نہیں، جب وہ آپس میں جھگڑتے ہیں۔
مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ : سب سے اونچی مجلس سے مراد آسمانوں پر فرشتوں کی مجلس ہے۔ ”كَانَ“ ہمیشگی کا معنی دیتا ہے، اس پر نفی آنے سے نفی کی ہمیشگی مراد ہوتی ہے، یعنی فرشتوں کی مجلس میں جو بحث ہوتی ہے مجھے اس کا کبھی کچھ علم نہیں ہوتا، میں عالم الغیب نہیں، اس کے متعلق میں جو کچھ تمہیں بتاتا ہوں وہ وحی الٰہی کے ذریعے سے مجھے معلوم ہوتا ہے اور وہ بھی صرف ان بحثوں کے متعلق کہ جن کا تعلق لوگوں کی ہدایت اور انھیں خبردار کرنے اور ڈرانے سے ہوتا ہے۔ یہ وحی الٰہی میری نبوت کی بھی دلیل ہے، کیونکہ اگر وحی نہ ہوتی تو میں ملأ اعلیٰ میں ہونے والی کوئی بات تمہیں نہ بتاسکتا۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ملأ اعلیٰ کی ایک مجلس کی گفتگو کا ذکر فرمایا، معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ ہم سے صبح کی نماز سے رکے رہے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ دیکھ لیں، پھر آپ جلدی سے نکلے، نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور اس میں اختصار سے کام لیا، جب سلام پھیرا تو آواز کے ساتھ ہمیں فرمایا، اپنی اپنی جگہ اسی طرح بیٹھے رہو، پھر فرمایا : (أَمَا إِنِّيْ سَأُحَدِّثُکُمْ مَا حَبَسَنِیْ عَنْکُمُ الْغَدَاۃَ إِنِّيْ قُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ فَتَوَضَّأْتُ فَصَلَّیْتُ مَا قُدِّرَ لِيْ فَنَعَسْتُ فِیْ صَلاَتِيْ حَتَّی اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّيْ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِيْ أَحْسَنِ صُوْرَۃٍ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ ! قُلْتُ لَبَّیْکَ رَبِّ قَالَ فِیْمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی ؟ قُلْتُ لَا أَدْرِيْ قَالَہَا ثَلاَثًا قَالَ فَرَأَیْتُہُ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَيَّ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ أَنَامِلِہِ بَیْنَ ثَدْیَیَّ فَتَجَلّٰی لِيْ کُلُّ شَيْءٍ وَ عَرَفْتُ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ ! قُلْتُ لَبَّیْکَ رَبِّ قَالَ فِیْمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی ؟ قُلْتُ فِي الْکَفَّارَاتِ قَالَ مَا ہُنَّ ؟ قُلْتُ مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَی الْجَمَاعَاتِ وَ الْجُلُوْسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَ إِسْبَاغُ الْوُضُوْءِ فِي الْمَکْرُوْہَاتِ قَالَ ثُمَّ فِیْمَ ؟ قُلْتُ إِطْعَام الطَّعَامِ وَ لِیْنُ الْکَلاَمِ وَ الصَّلاَۃُ باللَّیْلِ وَ النَّاسُ نِیَامٌ، قَالَ سَلْ قُلْتُ اللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَ تَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَ أَنْ تَغْفِرَ لِيْ وَ تَرْحَمَنِيْ وَ إِذَا أَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِيْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ وَأَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّکَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ إِنَّہَا حَقٌّ فَادْرُسُوْہَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْہَا) [ ترمذي، التفسیر، باب سورة صٓ : 3235 ] ”سنو ! میں تمہیں بتاؤں گا کہ آج صبح مجھے تم سے کس چیز نے روکے رکھا، میں رات کو اٹھا، وضو کیا اور جتنی نماز قسمت میں تھی وہ پڑھی، نماز میں مجھے نیند آگئی، حتیٰ کہ میں بوجھل ہوگیا تو اچانک میں اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھتا ہوں۔ اس نے فرمایا : ”اے محمد !“ میں نے کہا : ”حاضر ہوں، اے میرے رب !“ فرمایا : ”ملأ اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟“ میں نے کہا : ”میں نہیں جانتا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین دفعہ کہی، تو میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اپنی ہتھیلی میرے کندھوں کے درمیان رکھی، یہاں تک کہ میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے درمیان محسوس کی، تو میرے لیے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی۔ پھر فرمایا : ”اے محمد !“ میں نے کہا : ”حاضر ہوں اے میرے رب !“ فرمایا : ”ملأ اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟“ میں نے کہا : ”کفارات کے بارے میں۔“ فرمایا : ”وہ کیا ہیں ؟“ میں نے کہا : ”پیدل چل کر جماعت (کے ساتھ نماز) کے لیے جانا اور نمازوں کے بعد مسجدوں میں بیٹھنا اور ناپسندیدہ وقتوں میں وضو کرنا۔“ فرمایا : ”پھر کس چیز میں ؟“ میں نے کہا : ”کھانا کھلانے میں اور نرم کلام میں اور رات کو نماز کے بارے میں جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔“ فرمایا : ”مانگ۔“ تو میں نے یہ دعا کی : ”(اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ“ سے لے کر ”یُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّکَ“ تک) اے اللہ ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے کا سوال کرتا ہوں اور برائیاں ترک کرنے کا اور مسکینوں کی محبت کا اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کرے اور جب تو کسی قوم میں فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا ہوئے بغیر فوت کرلے، اور میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس شخص کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور اس عمل کی محبت کا جو تیری محبت کے قریب کر دے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”یہ دعا حق ہے، اسے پڑھو، پھر اسے اچھی طرح سیکھو۔“ ترمذی نے فرمایا : ”یہ حدیث حسن صحیح ہے، میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔“ شیخ البانی ؓ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
Top