Maarif-ul-Quran - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھ کو کچھ خبر نہ تھی اوپر کی مجلس کی جب وہ آپس میں تکرار کرتے ہیں
(آیت) مَا كَانَ لِيَ مِنْ عِلْمٍۢ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ۔ (مجھ کو عالم بالا کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ وہ گفتگو کر رہے تھے) یعنی یہ میری رسالت کی واضح دلیل ہے کہ میں تم سے عالم بالا کی ایسی باتیں بیان کرتا ہوں جو وحی کے سوا کسی بھی ذریعہ سے معلوم نہیں ہو سکتیں۔ ان باتوں سے مراد ایک تو وہ گفتگو ہے جو تخلیق آدم کے وقت اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان ہوئی تھی، اور جس کا تذکرہ سورة بقرہ میں آ چکا ہے۔ فرشتوں نے کہا تھا کہ (آیت) اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدماء۔ (کیا آپ زمین میں ایسے انسان کو پیدا کر رہے ہیں جو وہاں فساد پھیلائے اور خونریزی کرے ؟) اس گفتگو کو یہاں ”اختصام“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں جھگڑا یا بحث و مباحثہ۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ فرشتوں کا یہ سوال کوئی اعتراض یا بحث و مباحثہ کے نقطہ نظر سے نہ تھا بلکہ وہ محض تخلیق آدم کی حکمت معلوم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن سوال و جواب کا ظاہری روکار چونکہ بحث کا سا ہوگیا تھا اس لئے اسے اختصام کے لفظ سے تعبیر کیا گیا۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے جب کوئی چھوٹا کسی بڑے سے کوئی سوال کرتا ہے تو بعض اوقات بڑا آدمی اس کا ذکر کرتے ہوئے ازراہ تفنن اس کے سوال و جواب کو ”جھگڑے“ سے تعبیر کردیتا ہے۔
Top