Taiseer-ul-Quran - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھے تو عالم بالا 68 کے متعلق کچھ علم نہ تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے۔
68 عالم بالا میں فرشتوں کی بحثیں :۔ عالم بالا سے مراد فرشتوں کا مستقر ہے۔ ان میں بھی کبھی کبھار کوئی بحث چھڑ جاتی ہے۔ انہیں میں سے ایک بحث وہ ہے جو سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت ہوئی تھی اور جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اور رسول اللہ سے یہ خطاب ہے۔ کہ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ عالم بالا میں جو کچھ بحثیں وغیرہ ہوتی ہیں۔ مجھے ان کا قطعاً کچھ علم نہیں ہوتا صرف اسی بات کا علم ہوتا ہے۔ جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور میں چونکہ لوگوں کو ان کے انجام سے خبردار کرنے والا ہوں لہذا مجھے صرف انہی بحثوں کے متعلق وحی کی جاتی ہے جن کا تعلق انسانوں کی ہدایت سے ہوتا ہے۔
Top