Mutaliya-e-Quran - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
(ان سے کہو) "مجھے اُس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا
مَا كَانَ لِيَ [نہیں تھا میرے لئے ] مِنْ عِلْمٍۢ [کوئی بھی علم ] بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي [(فرشتوں کی) اعلیٰ مجلس کا ] اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ [جب وہ بحث کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: ملأ اعلیٰ مقربین کی مجلس ہے جن کے توسط سے تدابیر الٰہیہ ظہور پذیر ہوتی ہیں یعنی ملأ اعلیٰ میں نظام عالم کے فنا وبقا کے متعلق جو تدبییں یا بحثیں ہوتی ہیں مجھے اس کی کیا خبر تھی جو تم سے بیان کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے جن اجزاء پر مطلع فرمادیا وہ بیان کردیئے۔ جو کہتاہوں اسی کی وحی سے کہتاہوں۔ مجھ کو یہی حکم لا ہے کہ سب کو آنے والے مستقبل سے خوب کھول کھول کر آگاہ کردوں۔ رہا یہ کہ وہ وقت کب آئے گا اور قیامت کب قائم ہوگی، نہ انذار کے لئے اس کی ضرورت ہے نہ اس کی اطلاع کسی کو دی گئی ہے۔ جو تخاصم ابلیس کا آدم کے معاملہ میں ہوا، جس کا ذکر آگے آتا ہے، وہ بھی وحی کے ذریعہ معلوم ہوا۔ (ترجمہ شیخ الہند) یہ رسول اللہ ﷺ کے صحت نبوت کی ایک دلیل ہے۔ مدعا یہ ہے کہ عالم بالا میں فرشتوں کا حضرت آدم (علیہ السلام) کے باب میں سوال و جواب کرنا مجھے کیا معلوم ہوتا اگر میں نبی نہ ہوتا۔ اس کی خبر دینا میری نبوت اور میرے پاس وحی آنے کی دلیل ہے۔ (تفسیر نعیمی)
Top