Tadabbur-e-Quran - Saad : 69
مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ
مَا كَانَ : نہ تھا لِيَ : میرے پاس (مجھے) مِنْ عِلْمٍۢ : کچھ خبر بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰٓي : عالم بالا کی اِذْ : جب يَخْتَصِمُوْنَ : وہ باہم جھگڑتے تھے
مجھے عالم بالا کی باتوں کی کچھ خبر نہ تھی جب کہ وہ گجھڑ رہے ہوں گے۔
(آیت) یعنی اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ میں یوں ہی تم پر دھونس جمانے کے لئے ایک نذیر مبین بن بیٹھا ہوں اور تمہیں مرعوب کرنے کے لئے اہل دوزخ کی باہمی توتکار کا افسانہ سنا رہا ہوں۔ بھلا عالم بالا کی ان باتوں کی مجھے کیا خبر ہو سکتی تھی ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ اپنی وحی کے ذریعہ سے مجھے اس لئے آگاہ فرما رہا ہے کہ میں ایک کملے ہوئے ڈرانے والے کی طرح اس پیش آنے والے دن کی ہولناکی سے آگاہ کر دوں۔ ورنہ میں کوئی غیب دان نہیں ہوں، میں تو بس ایک نذیر مبین ہں۔ نذیر مبین کی وضاحت اس کے محل میں ہو کوئی غیب دان نہیں ہوں میں تو بس ایک نذیر مبین ہوں۔ نذیر مبین کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مستقبل کے پردوں میں چھپے ہوئے ان احوال سے مجھے اس لئے آگاہ فرمایا کہ ہے کہ میں تمہیں اس طرح ان سے ڈرائوں کہ گویا وہ میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔
Top