Madarik-ut-Tanzil - Saad : 78
وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ
وَّاِنَّ : اور بیشک عَلَيْكَ : تجھ پر لَعْنَتِيْٓ : میری لعنت اِلٰى : تک يَوْمِ الدِّيْنِ : روز قیامت
اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت (پڑتی) رہے گی
78: وَّاِنَّ عَلَیْکَ لَعْنَتِیْ (اور بیشک تجھ پر میری لعنت ہے) قراءت : مدنی نے لَعْنَتِیَّ پڑھا۔ لعنت ہر خیر سے دوری کو کہا جاتا ہے۔ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ (قیامت کے دن تک) یوم جزاء تک اس سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اس کی لعنت کا یوم جزاء کو خاتمہ ہوجائے گا۔ اور پھر وہ منقطع ہوجائے گی۔ کیونکہ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو صرف اس پر لعنت ہے اور جب قیامت کا دن آجائے گا۔ تو لعنت کے ساتھ عذاب بھی مل جائے گا۔ اور لعنت کا اکیلا ہونا ختم ہوجائے گا۔ نمبر 2۔ جب زمانہ رحمت میں اس پر لعنت ہو رہی ہے تو جب رحمت کا وقت ہی نہیں تو اس پر کیونکر رحمت ہوگی اور لعنت منقطع بھی کیسے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا فَاذَّنَ مؤذن بینہم ان لعنۃ اللّٰہ علی الظالمین ] الاعراف : 44[
Top