Tafseer-e-Majidi - Yaseen : 12
اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠   ۧ
اِنَّا نَحْنُ : بیشک ہم نُحْيِ : زندہ کرتے ہیں الْمَوْتٰى : مردے وَنَكْتُبُ : اور ہم لکھتے ہیں مَا قَدَّمُوْا : جو انہوں نے آگے بھیجا (عمل) وَاٰثَارَهُمْ ڳ : اور ان کے اثر (نشانات) وَكُلَّ : اور ہر شَيْءٍ : شے اَحْصَيْنٰهُ : ہم نے اسے شمار کر رکھا ہے فِيْٓ : میں اِمَامٍ مُّبِيْنٍ : کتاب روشن (لوح محفوظ
بیشک ہم ہی تو مردوں کو جلائیں گے، اور ہم لکھتے جاتے ہیں اسے جو یہ آگے بھیجتے جاتے ہیں اور پیچھے چھوڑے جاتے ہیں،7۔ اور ہم نے ہر شیء کو ایک واضح کتاب میں درج کر رکھا ہے،8۔
7۔ یعنی ان کا ہر وہ عمل جس پر جزاؤسزا مرتب ہوسکتی ہے۔ برابر لکھا جاتا رہتا ہے۔ (آیت) ” ماقدموا “۔ سے مراد ہیں وہ کام جو انہیں کی ذات پر ختم ہوگئے یعنی اعمال ذاتی۔ (آیت) ” واثارھم “۔ سے مراد ہیں ان کے وہ اعمال جو سبب بنے دوسروں کی ہدایت وضلالت کے یعنی اعمال متعدی۔ (آیت) ” نکتب “۔ فرشتوں کے عمل کتابت اعمال کو اپنی جانب منسوب فرمایا ہے۔ (آیت) ” انا نحن نحی الموتی “۔ یعنی ہم ہی مردوں کو دوبارہ اٹھا کر کھڑا کریں گے، اور اس وقت جزاوسزا دونوں کا پورا ظہور ہوگا۔ 8۔ مراد ہے لوح محفوظ، جس میں چھوٹا بڑا ہر واقعہ درج ہے۔ اے اللوح المحفوظ (بحر۔ عن مجاہد وقتادہ وابن زید) یعنی اللوح المحفوظ لانہ اصل الکتب ومقتداھا (مدارک) (آیت) ” امام “۔ کے لغوی معنی میں ہر وہ چیز داخل ہے خواہ انسان ہو یا کتاب ہو یا کچھ اور جس کا اقتداء کیا جائے۔ الامام الموتم بہ انسانا کان اوکتابا اوغیر ذلک (راغب) فرقہ شیعہ کے غالیوں نے لفظ (آیت) ” امام “۔ کے اپنے اصطلاحی اور اختراعی معنی لے کر (آیت) ” امام مبین “۔ سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہ ؓ سے لی ہے۔ ولا یخفی ما فی ذلک من عظیم الجھل بالکتاب الجلیل (روح)
Top