Tafseer-e-Majidi - Yaseen : 13
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ
وَاضْرِبْ : اور بیان کریں آپ لَهُمْ : ان کے لیے مَّثَلًا : مثال (قصہ) اَصْحٰبَ الْقَرْيَةِ ۘ : بستی والے اِذْ : جب جَآءَهَا : ان کے پاس آئے الْمُرْسَلُوْنَ : رسول (جمع)
اور آپ ان کے سامنے ایک قصہ بیان کیجیے ایک بستی والوں کا جب کہ ان کے پاس رسول آئے،9۔
9۔ (آیت) ” القریۃ “۔ سے مراد شام کا شہر انطاکیہ (AntiAcA) لیا گیا ہے۔ (آیت) ” المرسلون “۔ اس سے اصطلاحی رسول (یعنی اللہ کے فرستادے) نہیں۔ بلکہ رسول وقت حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے نائبین مراد لیے گئے ہیں۔ لیکن کوئی حدیث صحیح اس باب میں موجود نہیں اور سیاق قرآنی سے بھی اس تفسیر منقول کی تائید نہیں ہوتی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس تفسیر پر اصل نکلتی ہے مشائخ کے اس طریق کی کہ اپنے خلفاء کو ارشاد خلق کے لیے مختلف شہروں، ملکوں میں بھیجتے رہتے ہیں۔
Top