Tafseer-e-Saadi - At-Tahrim : 8
وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠   ۧ
وَمَنْ : اور جو يَّعْصِ : نافرمانی اللّٰهَ : اللہ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کا رسول وَيَتَعَدَّ : اور بڑھ جائے حُدُوْدَهٗ : اس کی حدیں يُدْخِلْهُ : وہ اسے داخل کرے گا نَارًا : آگ خَالِدًا : ہمیشہ رہے گا فِيْھَا : اس میں وَلَهٗ : اور اس کے لیے عَذَابٌ : عذاب مُّهِيْنٌ : ذلیل کرنے والا
اے ایمان والو، اللہ کے آگے سچی توبہ کرو عجب کیا کہ تمہارا پروردگار (اسی سے) تمہارے گناہ تم سے دور کردے اور تمہیں باغوں میں داخل کردے جن کے نیچے نہری بہ رہی ہیں (اس دن) جس دن اللہ نہ نبی کو رسوا کرے گا اور ان ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں،13۔ ان کا نور دوڑ رہا ہوگا ان کے سامنے اور ان کے داہنے (اور) وہ کہتے جاتے ہوں گے اے ہمارے پروردگار ہمارے لیے اس نور کو اخیر تک رکھیو اور ہماری مغفرت کرئیو، بیشک تو تو ہر چیز پر قادر ہے،14۔
13۔ محققین نے لکھا ہے کہ مقصود صرف مومنین کو اطمینان دلانا اور مژدۂ امن سنانا ہے، پیغمبر ﷺ کا ذکر اس سیاق میں تو محض تقویت اثبات کے لیے ہے۔ یعنی جس طرح پیغمبر ﷺ کا محفوظ رہنا یقینی ہے، مومنین امت بھی اپنی محفوظیت یقینی سمجھیں۔ (آیت) ” توبۃ نصوحا “۔ سچی اور مخلصانہ توبہ کی علامت یہ ہے کہ ماضی پر دل سے اور کامل ندامت ہو، اور مستقبل میں بقدر امکان پورا عزم ترک معصیت کا ہو۔ اے توبۃ بالغۃ فی النصح (کبیر) (آیت) ” لایخزی اللہ۔ خزی سے یہاں مراد وہ رسوائی ہے جو کفر ہی کی جزاء ہے۔ 14۔ (تیرے لیے ہماری آرزوؤں کو پورا کرنا اب کیا مشکل ہے) (آیت) ” نورھم ..... بایمانھم “۔ یہ اس وقت ہوگا جب اہل ایمان پل صراط سے گزر رہے ہوں گے۔ (آیت) ” اتمم لنا نورنا “۔ نہ ہو کہ ہمارا نور منافقین کی طرح راستہ ہی میں بجھ کر رہ جائے (آیت) ” یقولون ..... قدیر “۔ بعض علماء محققین نے عالم آخرت کی اس دعاء سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ بندہ کی حاجتمندی اور عبودیت کسی حال اور کسی عالم میں بھی اس سے زائل نہ ہوگی ،
Top