Tafseer-e-Mazhari - Saad : 24
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩  ۞
قَالَ : (داود نے) کہا لَقَدْ ظَلَمَكَ : واقعی اس نے ظلم کیا بِسُؤَالِ : مانگنے سے نَعْجَتِكَ : تیری دنبی اِلٰى : طرف۔ ساتھ نِعَاجِهٖ ۭ : اپنی دنبیاں وَاِنَّ : اور بیشک كَثِيْرًا : اکثر مِّنَ : سے الْخُلَطَآءِ : شرکاء لَيَبْغِيْ : زیادتی کیا کرتے ہیں بَعْضُهُمْ : ان میں سے بعض عَلٰي : پر بَعْضٍ : بعض اِلَّا : سوائے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انہوں نے عمل کیے درست وَقَلِيْلٌ : اور بہت کم مَّا هُمْ ۭ : وہ ۔ ایسے وَظَنَّ : اور خیال کیا دَاوٗدُ : داؤد اَنَّمَا : کہ کچھ فَتَنّٰهُ : ہم نے اسے آزمایا فَاسْتَغْفَرَ : تو اس نے مغفرت طلب کی رَبَّهٗ : اپنا رب وَخَرَّ : اور گرگیا رَاكِعًا : جھک کر وَّاَنَابَ : اور اس نے رجوع کیا
انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گڑ پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا
قال لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ وان کثیرا من الخلطاء لیبغی بعضھم علی بعض الا الذین امنوا وعملوا الصلحت وقلیل ما ھم داؤد نے کہا : بلاشبہ اس نے تجھ پر ظلم کیا کہ اپنی دنبیوں میں تیری دنبی کو (چھین کر) ملا لینے کا طلبگار ہوا اور اکثر شرکاء کی عادت ہے کہ ایک دوسر پر (یونہی) زیادتی کیا کرتے ہیں ‘ مگر ہاں جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ‘ وہ مستثنیٰ ہیں اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔ قَال یعنی مدعیٰ علیہ کے اقرار کے بعد حضرت داؤد نے کہا۔ لقد ظلمک بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر تیری بات صحیح ہے تو بلاشبہ اس نے تیری حق تلفی کی۔ جملہ کو مؤکد بقسم ذکر کرنے سے مدعیٰ علیہ کے فعل کی برائی اور اس کے ناجائز لالچ کی مذمت پر زور طور پر کرنا مقصود ہے۔ الْخُلَطَاء یعنی شرکاء جو آپس میں اپنا مال مخلوط کرلیتے ہیں۔ خلطاء ‘ خلیط کی جمع ہے۔ قَلِیْلٌ مَّا ھُمْ اس میں مَا زیادہ ہے جو ابہام اور تعجب کو ظاہر کرنے کیلئے بڑھا دیا گیا ہے۔ غرض داؤد نے جب ان کا فیصلہ کردیا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسا ‘ پھر دونوں آسمان کی طرف چڑھ (کر غائب ہو) گئے۔ وظن داود انما فتنہ فاستغفر ربہ وخر راکعا واناب اور داؤد کو خیال آیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے ‘ فوراً وہ اپنے رب سے معافی کے خواستگار ہوئے اور سجدے میں گرپڑے اور (ہماری طرف) رجوع ہوئے۔ وظنّ داوٗدیعنی حضرت داؤد سمجھ گئے اور ان کو یقین ہوگیا کہ ہم نے انکی جانچ کی ہے کہ اس مقدمہ سے وہ بیدار ہوتے ہیں یا نہیں۔ سدی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ جب ایک نے ان ھذا اخی الخ کہا تو حضرت داؤد نے دوسرے سے پوچھا : تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے جواب دیا : بیشک میرے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور اس کی ایک دنبی ہے۔ میں اس کی دنبی لے کر اپنی سو (100) دنبیاں پوری کرنا چاہتا ہوں ‘ مگر اس کو یہ بات ناگوار ہے۔ حضرت داؤد نے فرمایا : تو میں تجھ کو اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ اگر تو نے اس کا ارادہ بھی کیا تو میں اس پر (ناک پر) اور اس پر (ناک کی جڑ پر) اور اس پر (تیری پیشانی پر) ماروں گا۔ اس نے کہا : داؤد ! آپ اس (سزا) کے زیادہ مستحق ہیں۔ اور یا کی تو ایک ہی عورت تھی اور آپ کی ننانوے تھیں۔ آپ برابر اس کے مارے جانے کے درپے رہے۔ آخر وہ قتل ہوگیا اور آپ نے اس کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس کے بعد حضرت داؤد نے جو دیکھا تو کوئی بھی نظر نہ آیا (دونوں غائب ہوگئے) اس وقت حضرت داؤد سمجھ گئے کہ میں کیسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا۔ بعض علماء جو انبیاء کو اس طرح کے عیوب سے پاک مانتے ہیں ‘ اس قصہ کے متعلق ان کا قول ہے کہ حضرت داؤد کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اور یا کی بیوی کو اپنے لئے بنائے جانے کی دل میں تمنا کی تھی۔ اتفاقاً اور یا کسی جہاد پر گیا اور لڑای میں آگے بڑھ کر شہید ہوگیا۔ حضرت داؤد کو اس کے قتل ہوجانے کی خبر ملی تو آپ اس کے مارے جانے پر ایسے رنجیدہ نہیں ہوئے جیسے آپ کی عادت تھی کہ فوج کا جو سپاہی مارا جاتا تو آپ کو اس کا سخت رنج ہوتا اور آپ غمگین ہوجاتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے اور یا کی بیوہ سے نکاح کرلیا ‘ اتنے ہی قصور پر آپ پر اللہ کی طرف سے عتاب ہوا ‘ کیونکہ انبیاء کا مرتبہ اللہ کے نزدیک چونکہ بہت اونچا ہے اسلئے انبیاء کے چھوٹے گناہ بھی خدا کی نظر میں بڑے ہوتے ہیں۔ بعض اہل علم نے کہا کہ حضرت داؤد کا قصور صرف یہ تھا کہ اور یا نے ایک عورت کو نکاح کا پیام بھجوایا ‘ پھر کسی جہاد پر چلا گیا اور غائب ہوگیا۔ اس کے غائب ہوجانے کے بعد حضرت داؤد نے اس عورت کو اپنے نکاح کا پیام بھیجا اور اس سے نکاح کرلیا۔ اور یا (کو اس کی اطلاع ملی تو وہ) بہت رنجیدہ ہوا اور حضرت داؤد پر اللہ کا عتاب نازل ہوا کہ اس ایک عورت کو بھی انہوں نے (اول) پیام نکاح بھیجنے والے کیلئے نہیں چھوڑا ‘ باوجودیکہ ان کے پاس ننانوے عورتیں موجود تھیں۔ بغوی نے حضرت انس بن مالک کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ حضرت انس نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ داؤد نبی نے جو اس عورت کی طرف نظر کی تو دل میں ایک ارادہ کیا اور سپہ سالار کو حکم بجھوا دیا کہ جب دشمن کا مقابلہ ہو تو فلاں شخص کو تابوت کے آگے کردینا۔ اس زمانہ میں تابوت کی برکت سے ہی اللہ کی نصرت طلب کی جاتی تھی۔ جو شخص تابوت سے آگے ہوتے ‘ وہ لوٹ نہیں سکتا تھا ‘ یا مارا ماتا یا فتحیاب ہوتا اور دشمن کو شکست ہوجاتی۔ چناچہ اس عورت کا شوہر شہید ہوگیا اور دو فرشتے نازل ہوئے اور انہوں نے (مذکورۂ بالا) قصہ بیان کیا۔ اس وقت حضرت داؤد حقیقت کو سمجھ گئے ‘ فوراً سجدہ میں گرگئے اور چالیس روز تک سجدہ میں پڑے رہے ‘ یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے گھاس اگ کر سر کے اوپر آگئی اور مٹی نے پیشانی (کی کھال) کو کھالیا۔ سجدہ کی حالت میں وہ برابر کہہ رہے تھے : اے میرے رب ! داؤد سے وہ عظیم ترین لغزش ہوگئی جو مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلہ سے بھی بڑی ہے۔ اے میرے رب ! اگر تو داؤد کی کمزوری پر رحم نہیں کرے گا اور اس کے گناہ کو معاف نہیں کرے گا اور آنے والی مخلوق کیلئے داؤد کے قصور کو کہانی بنا دے گا (تو پھر داؤد پر کون رحم کرے گا) چالیس روز کے بعد حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور کہا : داؤد ! اللہ نے تمہارا وہ ارادہ (یعنی گناہ کا ارادہ) معاف کردیا جو تم کرچکے تھے۔ داؤد نے کہا : بیشک میرا رب میرے (گناہ کے) ارادہ کو معاف کردینے کی قدرت رکھتا ہے ‘ لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ منصف ہے (خلاف عدل) کسی کی طرف اس کا جھکاؤ نہ ہوگا ‘ پھر قیامت کے دن جب فلاں شخص (آئے گا اور بطور استغاثہ) کہے گا : اے میرے رب ! میرا خون جو داؤد کے ذمے ہے (اس کا عوض دلوا دے) جبرئیل نے کہا : اس کے متعلق تو میں نے آپ کے رب سے کچھ دریافت نہیں کیا ‘ اگر آپ کی خواہش ہے تو میں ایسا ضرور کروں گا (اور آپ کو فرمان خداوندی بتادوں گا) ۔ حضرت داؤد نے کہا : ہاں (میری خواہش یہی ہے) جبرئیل اوپر چڑھ گئے اور داؤد سجدہ میں پڑگئے اور وقت حسب مشیت خدا گذرتا رہا۔ پھر جبرئیل اترے اور کہا : داؤد ! میں نے اللہ سے اس بات کے متعلق جس کیلئے آپ نے مجھے بھیجا تھا ‘ دریافت کیا تھا ‘ اللہ نے فرمایا : داؤد سے کہہ دے کہ قیامت کے دن اللہ تم کو اور اس کو جمع کرے گا اور اس سے فرمائے گا کہ جو خون تیرا داؤد کے ذمے ہے ‘ وہ مجھے بخش دے۔ وہ جواب دے گا : اے میرے رب ! میں نے تجھے (اختیار) دیا۔ اللہ فرمائے گا : اس کے عوض جنت کے اندر تو جو کچھ چاہے اور جس چیز کی تجھے خواہش ہو ‘ لے لے۔ کعب احبار اور وہب بن منبہ کا بالاتفاق بیان ہے کہ جب دونوں فرشتے حضرت داؤد کے پاس آئے اور حضرت داؤد نے اپنے ہی خلاف مقدمہ کا فیصلہ کردیا تو دونوں اپنی اصلی صورتوں میں آگئے اور یہ کہتے ہوئے اوپر چڑھ گئے کہ اس شخص نے اپنے ہی خلاف فیصلہ کردیا اور داؤد بھی سمجھ گئے کہ وہ مصیبت میں مبتلا ہوگئے ‘ فوراً سجدہ میں گرپڑے اور چالیس روز سجدے میں پڑے رہے ‘ نہ کچھ کھاتے تھے نہ کچھ پیتے تھے ‘ روتے رہتے تھے ‘ یہاں تک کہ گھاس ان کے سر کے اردگرد اگ آئی۔ برابر اللہ کو پکارتے اور قبول توبہ کی درخواست کرتے رہے۔ حضرت داؤد سجدہ کی حالت میں یہ دعا کرتے تھے : پاک ہے وہ بادشاہ جو سب سے بڑی عظمت والا ہے ‘ مخلوق کی جس طرح چاہتا ہے آزمائش کرتا ہے۔ پاک ہے نور کا خالق ‘ پاک ہے وہ جو دلوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ پاک ہے نور کا خالق۔ اے میرے معبود ! تو نے مجھے اور میرے دشمن ابلیس کو خالی چھوڑ دیا ‘ پھر جب فتنہ مجھ پر آپڑا تو اس میں میں کھڑا نہ رہ سکا۔ پاک ہے نور کا خالق ‘ داؤد کیلئے ہلاکت ہوگی اس روز جب اس کا پردہ فاش ہوجائے گا اور فرشتہ کہے گا : یہ ہے خطاکار داؤد۔ پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! میں کس آنکھ سے (سر اٹھا کر) تیری طرف دیکھوں گا ‘ ظالم تو پوشیدہ نظروں سے اس روز دیکھیں گے ‘ پاک ہے نور کو پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! میں کن قدموں سے اس روز تیرے سامنے چلوں گا ‘ جبکہ گنہگاروں کے قدم ڈگمگا رہے ہوں گے ‘ پاک ہے نور کو پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! مجھ میں تیرے سورج کی گرمی (برداشت کرنے) کی طاقت نہیں ‘ تیری دوزخ کی گرمی کیسے برداشت کرسکوں گا ؟ اے میرے معبود ! میں تیرے رعد کی آواز (کو سننے) کی طاقت نہیں رکھتا تو جہنم کی آواز (کو سننے) کی طاقت میرے اندر کیسے ہوگی ؟ پاک ہے نور کو پیدا کرنے ولا۔ ہلاکت ہے داؤد کی اس گناہ کی وجہ سے جس کا اس نے ارتکاب کیا ‘ پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! تو میری اندرونی اور بیرونی باتوں کو جانتا ہے ‘ میری معذرت کو قبول فرما ‘ پاک ہے نور کا خالق۔ اے میرے معبود ! اپنی رحمت سے میرے گناہ بخش دے اور مجھے ذلیل کرنے کیلئے اپنی رحمت سے مجھے دور نہ کر (یعنی اگر تو نے مجھے اپنی رحمت سے دور کردیا تو میں ذلیل ہوجاؤں گا) پاک ہے نور کا خالق۔ اے میرے رب ! میں تیری ذات کریم کے نور کی ان گناہوں سے پناہ چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے ہلاک کردیا ‘ پاک ہے نور کو پیدا کرنے والا۔ اے میرے معبود ! میں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار اور اپنی خطا کا اعتراف کرتا ہوں ‘ مجھے ناامید نہ کر اور قیامت کے دن مجھے رسوا نہ کر ‘ پاک ہے نور کا خالق۔ مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت داؤد چالیس روز تک یونہی سجدہ میں پڑے رہے ‘ سر اوپر نہ اٹھایا ‘ اور روتے رہے یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے گھاس اگ آئی ‘ جس نے آپ کے سر کو چھپالیا۔ چالیس روز کے بعد ندا آئی : داؤد ! کیا تو بھوکا ہے کہ تجھے کھانا دے دیا جائے ‘ یا پیاسا ہے کہ تجھے پانی پلا دیا جائے ‘ یا ننگا ہے کہ تجھے لباس دے دیا جائے ؟ میں تو بلامانگے یہ چیزیں تجھے دیتا ہوں۔ حضرت داؤداتنا روئے کہ آپ کے سینہ کی گرمی سے لکڑی بھڑکنے لگی اور جل گئی۔ اس کے بعد اللہ نے قبول توبہ اور مغفرت کا حکم نازل فرمایا۔ وہب کا بیان ہے : حضرت داؤد کو ندا آئی کہ میں نے تجھے بخش دیا۔ حضرت داؤد نے عرض کیا : یہ کیسے ہوگا ‘ تو تو کسی پر ظلم نہیں کرتا (پھر اور یا کے حق کا کیا ہوگا ؟ ) حکم ہوا : اور یا کی قبر پر جاؤ اور اس کو پکارو ‘ میں تمہاری آواز اس کو سنا دوں گا ‘ اس کے حق سے تم سبکدوش ہوجاؤ گے۔ حسب الحکم حضرت داؤد روانہ ہوگئے۔ کمبل کا لباس پہن لیا اور اور یا کی قبر کے پاس بیٹھ کر اس کو آواز دی ‘ اور یا نے کہا : کون ہے جس نے میرے مزے میں خلل ڈالا اور مجھے بیدار کردیا ؟ حضرت داؤد نے کہا : میں داؤد ہوں۔ اور یا نے کہا : اے اللہ کے نبی : آپ کو کیا چیز یہاں لائی ؟ حضرت داؤد نے کہا : میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میری طرف سے جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا ‘ اس سے تم مجھے سبکدوش کر دو ۔ اور یا نے کہا : آپ کی طرف سے میرے ساتھ کیا برا سلوک ہوگیا ؟ حضرت داؤد نے کہا : میں نے تم کو قتل ہونے کی پیشکش کی۔ اور یا نے کہا : آپ تو میرے سامنے جنت لے آئے ‘ آپ میری طرف سے سبکدوش ہیں۔ اللہ نے حضرت داؤد کے پاس وحی بھیجی اور فرمایا : داؤد ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں عادل حاکم ہوں ‘ کسی کی جانبداری میں فیصلہ نہیں کرتا۔ تم نے اس کو یہ کیوں نہیں بتایا کہ تم نے اس کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ حضرت داؤد پھر اور یا کی قبر کی طرف لوٹے اور اس کو آواز دی ‘ اور یا نے جواب میں کہا : کون ہے جس نے میرے مزے میں خلل ڈالا ؟ حضرت داؤد نے کہا : میں داؤد ہوں۔ اور یا نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا میں نے آپ کو معاف نہیں کردیا ؟ حضرت داؤد نے کہا : ہاں (یہ تو کیا تھا) لیکن میں نے تیرے ساتھ تیری بیوی کیلئے ایسا کیا تھا ‘ چناچہ میں نے اس سے نکاح کرلیا۔ اور یا خاموش ہوگیا ‘ پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ بار بار حضرت داؤد نے پکارا ‘ مگر اور یا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حضرت داؤد اس کی قبر کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے سر پر خاک ڈالنے لگے اور پکارنے لگے : داؤد کی ہلاکت ہوگی اس روز جبکہ انصاف کی ترازوئیں قائم کی جائیں گی ‘ پاک ہے نور کا خالق۔ ہلاکت ہوگی ‘ پھر بڑی ہلاکت ہوگی داؤد کی جبکہ اس کو ٹھوڑی پکڑ کر مظلوم کے حوالے کردیا جائے گا ‘ پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا۔ ہلاکت ہوگی ‘ پھر بڑی ہلاکت ہوگی داؤد کی جبکہ منہ کے بل اس کو کھینچ کر دوزخ میں گنہگاروں کے ساتھ ڈال دیا جائے گا ‘ پاک ہے نور کو پیدا کرنے والا۔ آسمان سے ندا آئی : داؤد ! میں نے تیری خطا معاف کردی ‘ مجھے تیرے رونے پر رحم آگیا اور میں نے تیری دعا قبول کرلی اور تیری لغزش سے درگذر کی۔ حضرت داؤد نے عرض کیا : اے میرے رب ! یہ کیسے ہوگا ‘ صاحب حق نے تو مجھے معاف نہیں کیا۔ اللہ نے فرمایا : داؤد ! میں قیامت کے دن اتنا ثواب دوں گا کہ اس کی آنکھوں نے دیکھا ہوگا نہ اس کے کانوں سے سنا ہوگا ‘ پھر میں اس سے کہوں گا : تو میرے بندے داؤد سے راضی ہوگیا ؟ وہ کہے گا : اے میرے رب ! مجھے یہ ثواب کہاں سے مل گیا ‘ میرے اعمال تو یہاں تک پہنچانے کے قابل نہ تھے۔ میں کہوں گا : یہ میرے بندے داؤد کے (جرم کے) بدلے میں تجھے دیا گیا ہے ‘ اب میں تجھ سے اس کے جرم معاف کردینے کا خواستگار ہوں۔ آخر وہ میری وجہ سے تجھے معاف کر دے گا۔ حضرت داؤد نے کہا : اب میں نے جان لیا کہ تو نے مجھے معاف کردیا۔ خَرَّ رَاکِعًا داؤد سجدہ میں گرگئے۔ سجود کو رکوع کہا گیا ہے کیونکہ رکوع ‘ سجود کا مبدء ہے (یعنی رکوع کے بعد سجود ہوتا ہے) ۔ بعض اہل علم نے یہ مطلب بیان کیا کہ داؤد راکع ہونے کی حالت میں سجدہ میں گرگئے ‘ گویا انہوں نے نماز استغفار کی دو رکعتوں کیلئے احرام کیا تھا (نیت کی تھی اور تکبیر تحریمہ کہی تھی) پھر نماز میں ہی سجدہ میں گرگئے اور اللہ کی طرف رجوع کیا ‘ توبہ کی۔ علماء حنفیہ نے یہیں سے استدال کیا ہے کہ جس نے آیت سجدہ پڑھی ‘ پھر فوراً سجدۂ تلاوت کی نیت سے رکوع کرلیا تو اس کیلئے کافی ہے (سجدۂ تلاوت ہوگیا) کیونکہ آیت خَرَّ رَاکِعًا میں رکوع کو سجدہ پر اطلاق کیا گیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ تلاوت سجدہ میں سجدہ مقصود نہیں ہے بلکہ تعظیم خداوندی مقصود ہے اور تعظیم کا مفہوم سجدہ اور رکوع دونوں میں ایک جیسا ہے۔ ا اللہ کی تعظیم کی ضرورت یا تو اس وجہ سے ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی تعظیم کی ہے ان کی پیروی ہوجائے ‘ یا جن لوگوں نے اللہ کے سامنے غرور کیا ہے ان کی مخالفت ہوجائے ‘ تقاضائے قیاس یہی ہے۔ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کہتے ہیں کہ سجدۂ تلاوت کی جگہ صرف رجوع کافی نہیں ہے (قیاس جلی کا تقاضا اگرچہ وہی ہے جو حنفیہ نے بیان کیا لیکن) استحسان (یعنی قیاس خفی) کا تقاضا اس کے خلاف ہے (استحسان چاہتا ہے کہ رکوع بجائے سجدہ کے کافی نہ ہو) کیونکہ سجدۂ تلاوت کی آیت پڑھنے سے جو تعظیم واجب ہوجاتی ہے وہ (عام بہمہ ہیئت تعظیم نہیں بلکہ) بصورت سجدہ واجب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت تلاوت (نماز میں) پڑھنے کے بعد اگر فوراً رکوع نہیں کیا اور اس کے بعد دوسری آیت کی قرأت لمبی کرلی اور پھر رکوع تلاوت کیا تو کسی امام اور عالم کے نزدیک یہ رکوع خواہ بنیت سجود تلاوت کیا ہو ‘ کافی نہ ہوگا۔ اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں۔ رہی آیت تو اس میں راکِعًا کا ترجمہ ساجدًا کرنا اور رکوع سے سجدہ مراد لینا ناقابل تسلیم ہے۔ اور اگر مان بھی لیا جائے تو یہ صرف مجازی معنی ہوگا ‘ مجازی معنی مراد لینے سے یہ لازم نہیں کہ (ہر جگہ) مجاز حقیقت کی جگہ یا حقیقت مجاز کی جگہ لے لے۔ امام ابوحنیفہ نے اس جگہ قیاس جلی کو استحسان پر ترجیح دی ہے کیونکہ اس جگہ قیاس کی تاثیر قومی ہے کیونکہ قیاس کی تائید اور تقویت ایک صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے ‘ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عمر نے نماز کے اندر (آیت سجدہ پڑھنے کے بعد) رکوع کو سجدہ کی جگہ کافی قرار دیا ہے اور کسی دوسرے صحابی کا اس سے اختلاف کسی روایت میں نہیں آیا (اس سے معلم ہوا کہ یہ اجماعی فیصلہ ہے) ۔ قیاس خفی (استحسان) کی قیاس جلی پر ترجیح صرف خفی (اور عمیق و دقیق) ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی ‘ نہ ظاہر کی خفی پر ترجیح محض ظاہر ہونے کی بناء پر ہوتی ہے بلکہ دوسرے معانی کی وجہ سے ہوتی ہے جو ظاہر یا خفی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ خفی کے مقابلے میں ظاہر متبادر کی ترجیح کچھ اوپر دس موقعوں پر ہوتی ہے جن کی تفصیل اصول فقہ میں بیان کردی گئی ہے ‘ البتہ استحسان کی ترجیح کے مواقع محدود نہیں ہیں۔ مسئلہ : آیت سجدہ کی تلاوت کے فوراً بعد اگر رکوع کرلیا اور رکوع کی شکل میں سجدۂ تلاوت ادا کرنے کی نیت نہیں کی ‘ پھر سجدہ کرلیا تو یہ نما زکا سجدہ ‘ سجدۂ تلاوت کے قائم مقام ہوجائے گا ‘ سجدۂ تلاوت کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ اگر آیت سجدہ پڑھنے کے بعد ایک یا دو آیتیں اور پڑھ لیں ‘ پھر رکوع کیا اور رکوع کے بعد حسب معمول نماز کا سجدہ کیا تب بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیک سجدۂ تلاوت ادا ہوجائے گا ‘ لیکن جمہور (یعنی باقی تینوں اماموں) کے نزدیک اس صورت میں سجدۂ تلاوت ‘ نماز کا سجدہ کرنے سے ادا نہ ہوگا۔ اگر آیت سجدہ کی تلاوت کے بعد دو سے زائد آیات پڑھ لیں ‘ پھر رکوع کیا اور سجدۂ صلاۃ کیا تو کسی امام کے نزدیک سجدۂ تلاوت ادا نہیں ہوگا خواہ سجدۂ تلاوت کی نیت ہی کی ہو۔ مسئلہ : امام ابوحنیفہ کے نزدیک جب تک نماز میں ہے ‘ سجدۂ تلاوت کی قضا واجب ہے۔ جمہور احناف کا یہی قول ہے۔ محمد بن سلمہ نے کہا : سجدۂ صلاۃ کا سجدۂ تلاوت کے قائم مقام بن جانا محض تقاضاء قیاس ہے ‘ استحسان اس کی اجازت نہیں دیتا ‘ استحسان تو کہتا ہے کہ نماز کا سجدہ بجائے خود فرض ہے ‘ وہ کسی دوسرے سجدہ کا قائم مقام نہیں ہوسکتا ‘ جیسے رمضان کا روزہ کسی دوسرے فوت شدہ روزے کا قائم مقام نہیں ‘ نہ کوئی فوت شدہ روزہ رمضان کے اندر کسی روزہ سے ادا ہوسکتا ہے۔ یہاں قیاس کو استحسان پر ترجیح حاصل ہے البتہ سجدۂ تلاوت کے قائم مقام رکوع کا ہوجانا تو یہ خلاف قیاس ہے اور یہ ظاہر ہے استحسان کی رو سے اس کے جواز کا قول کیا گیا ہے اور یہ قیاس خفی ہے۔ مسئلہ : سورت صٓ کی یہ آیت پڑھنے سے امام ابوحنیفہ کے نزدیک سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔ امام مالک ہر سجدۂ تلاوت کو سنت کہتے ہیں (واجب نہیں مانتے) اسلئے ان کے نزدیک اس جگہ بھی سجدۂ تلاوت مسنون ہے۔ امام شافعی اور امام احمد کے مشہور قول میں یہ سجدۂ شکر ہے جو نماز کے اندر ناجائز ہے اور نماز سے باہر مستحب ہے۔ ابن جوزی نے کہا : یہ سجدۂ عزائم (واجب) سجدہ میں سے نہیں ہے۔ دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو سورة صٓ میں سجدہ کرتے دیکھا (مگر) یہ عزائم سجدوں میں سے نہیں ہے۔ رواہ ابن الجوزی من طریق الترمذی ‘ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ میں کہتا ہوں : بخاری نے صحیح میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : آ کا سجدہ واجب سجدوں میں سے نہیں ہے (مگر) میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ مجاہد نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا : کیا میں سورت صٓ میں سجدہ کروں ؟ آپ نے پڑھا : وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ سُلَیْمَانَ.... فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ تک اور فرمایا : تمہارے نبی کو حکم دیا گیا ہے کہ دوسرے انبیاء کی اقتداء کریں۔ حضرت ابن عباس کا یہ جواب دلالت کر رہا ہے کہ آپ کے نزدیک بھی اس جگہ سجدہ واجب ہے۔ یہ روایت ہمارے لئے حجت اور ہمارے قول کی دلیل ہے۔ رہا حضرت ابن عباس کا یہ قول کہ یہ واجب سجدہوں میں سے نہیں ہے تو یہ روایت موقوف ہے ‘ اس کے مقابل حضرت ابن عباس کا مؤخر الذکر قول مرفوع ہے جو رسول اللہ ﷺ کا عمل ہے۔ ابن جوزی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے استدلال کیا ہے ‘ حضرت ابو سعید نے فرمایا : ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خطاب کیا (اور) سورت صٓ پڑھی۔ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو (منبر سے) اتر کر سجدہ کیا ‘ ہم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر (دوران خطبہ) آپ نے یہی سورت پڑھی ‘ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو ہم سجدہ کرنے کیلئے منتشر ہوگئے۔ حضور ﷺ نے ہم کو (اس حالت میں) دیکھ کر فرمایا : یہ تو ایک نبی کی توبہ کا سجدہ ہے ‘ مگر میں تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم سجدہ کیلئے تیار ہو۔ پھر آپ نے منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔ رواہ ابن الجوزی من طریق الدارقطنی۔ اس حدیث میں بھی ہمارے قول کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ اتنا مستفاد ہوتا ہے کہ عام سجدۂ تلاوت واجب نہیں (مسنون ہے) جیسا کہ جمہور کا مسلک ہے اور میرے نزدیک فتویٰ کیلئے یہی مناسب بھی ہے۔ احناف میں سے طحطاوی کا قول امام ابوحنیفہ کے قول کے خلاف ہے (طحاوی سجدۂ تلاوت کو مسنون کہتے ہیں) ۔ ہماری ایک دلیل حضرت ابوہریرہ کا بیان بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صٓ میں سجدہ کیا۔ رواہ ابن الجوزی من طریق الدارقطنی۔ حضرت ابو سعید کا قول بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صٓ میں سجدہ کیا۔ رواہ الطحاوی و ابوداؤد والحاکم۔ بیہقی نے بیان کیا ہے کہ متعدد صحابہ نے صٓ میں سجدہ کیا۔ حضرت سائب بن یزید کا بیان ہے : میں نے حضرت عمر کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی ‘ آپ نے سورت صٓ پڑھی اور اس میں (تلاوت کا) سجدہ کیا۔ نماز ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا : امیر المؤمنین ! کیا یہ واجب سجدوں میں سے ہے ؟ فرمایا : رسول اللہ ﷺ اس میں سجدہ کرتے تھے۔ ابو مریم راوی ہیں کہ حضرت عمر جب شام میں آئے تو حضرت داؤد کے عبادت خانہ میں بھی گئے ‘ وہاں آپ نے نماز پڑھی اور سورت صٓ پڑھی ‘ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو سجدہ کیا۔ حضرت ابن عباس کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صٓ میں سجدہ کیا اور فرمایا : داؤد نے سجدۂ توبہ کیا تھا اور ہم سجدۂ شکر کرتے ہیں۔ رواہ النسائی من حدیث حجاج بن محمد عن عمر بن ذر موصولاً ورواہ الدارقطنی والشافعی فی الام عن ابن عیینۃ عن ایوب عن عکرمۃ عن ابن عباس عن النبی ﷺ ۔ دوسرا سلسلۂ روایت اس طرح ہے : عبد اللہ بن بزیع عن عمر بن ذر عن ذر عن سعید بن جبیر عن ابن عباس عن النبی ﷺ ۔ ابن بزیع کی وجہ سے یہ سلسلہ معلل مجروح ہے ‘ ابن السکن نے اس کی تصحیح کی ہے۔ اور ابن عدی نے غیر معتبر کہا ہے : کذا قال ابن حجر۔ ابن ہمام نے کہا : اس حدیث سے زائد سے زائد یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت داؤد کے متعلق اس سجدہ کی وجہ بیان کردی اور ہمارے لئے اس کی وجہ بیان کردی (حضرت داؤد کیلئے توبہ کے طور پر اور ہمارے لئے شکر کے طور پر) لیکن بطور شکر اس سجدہ کا ہونا اس کے واجب ہونے سے تو نہیں روکتا۔ تمام فرائض وواجبات کا وجوب اللہ کے پیہم اور مسلسل نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلئے ہی تو ہوا ہے۔ امام ابوحنیفہ نے مسند میں بروایت سماک بن حرب از عیاش اشعری از حضرت ابو موسیٰ اشعری بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صٓ میں سجدہ کیا۔ امام احمد نے بکر بن عبد اللہ مزنی کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت ابو سعید خدری نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں سورة صٓ لکھ رہا ہوں۔ جب آیت سجدہ پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دوات قلم اور ہر چیز جو میرے سامنے موجود تھی ‘ الٹ کر سربسجود ہوگئی۔ میں نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا لیکن آپ نے سجدہ نہیں کیا۔ ابن ہمام نے کہا : اس سے معلوم ہوا کہ صٓ میں دوسری آیات سجدہ کی طرح سجدہ کی پابندی کا حکم ہوگیا اور اسی پر استقرار رہا ‘ اس سے پہلے اس کی عزیمت نہ تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ سابق میں جو ابو سعید کی روایات ہیں ‘ وہ اس قصہ سے پہلے کی تھیں۔ فصل حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ ایک شخص خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے آی رات خواب میں دیکھا کہ میں ایک درخت کی آڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں۔ جب میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدہ کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ سجدہ میں اس نے کہا : اے اللہ ! یہ سجدہ میرے لئے اپنے پاس باعث اجر بنا اور اس کی وجہ سے میرا گناہ ساقط فرما اور اپنے پاس میرے لئے اس کو جمع رکھ اور میری طرف سے اس کو قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داؤد کا سجدہ قبول فرمایا تھا۔ میں نے خود سنا کہ (اس بیان کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے آیت سجدہ پڑھی ‘ پھر سجدہ کی اور اس شخص نے درخت کے جو الفاظ نقل کئے تھے ‘ وہی الفاظ حضور ﷺ نے بھی فرمائے۔ رواہ الترمذی ‘ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ ابن حبان ‘ حاکم اور ابن ماجہ نے یہ حدیث بیان کی ہے ‘ لیکن ان حضرات نے (آخری عبارت یعنی) میری طرف سے اس سجدہ کو قبول فرما ‘ جیسے تو نے اپنے بندے داؤد کا سجدہ قبول فرمایا تھا ‘ نقل نہیں کی۔
Top