Ruh-ul-Quran - Saad : 24
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩  ۞
قَالَ : (داود نے) کہا لَقَدْ ظَلَمَكَ : واقعی اس نے ظلم کیا بِسُؤَالِ : مانگنے سے نَعْجَتِكَ : تیری دنبی اِلٰى : طرف۔ ساتھ نِعَاجِهٖ ۭ : اپنی دنبیاں وَاِنَّ : اور بیشک كَثِيْرًا : اکثر مِّنَ : سے الْخُلَطَآءِ : شرکاء لَيَبْغِيْ : زیادتی کیا کرتے ہیں بَعْضُهُمْ : ان میں سے بعض عَلٰي : پر بَعْضٍ : بعض اِلَّا : سوائے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور انہوں نے عمل کیے درست وَقَلِيْلٌ : اور بہت کم مَّا هُمْ ۭ : وہ ۔ ایسے وَظَنَّ : اور خیال کیا دَاوٗدُ : داؤد اَنَّمَا : کہ کچھ فَتَنّٰهُ : ہم نے اسے آزمایا فَاسْتَغْفَرَ : تو اس نے مغفرت طلب کی رَبَّهٗ : اپنا رب وَخَرَّ : اور گرگیا رَاكِعًا : جھک کر وَّاَنَابَ : اور اس نے رجوع کیا
حضرت دائود نے کہا کہ تمہارے بھائی نے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کا مطالبہ کرکے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے اور بیشتر شرکاء اسی طرح ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، بجز ان لوگوں کے جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں اور وہ بہت تھوڑے ہیں اور حضرت دائود نے گمان کیا کہ ہم نے اس کو آزمایا، تو اس نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدے میں گرگیا اور توبہ کی
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَـآئِ لَیَبْغِیْ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِیْلٌ مَّا ھُمْ ط وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَـتَـنّٰـہُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّـہٗ وَخَرَّرَاکِعًاوَّاَنَابَ ۔ (صٓ: 24) (حضرت دائود نے کہا کہ تمہارے بھائی نے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں میں ملانے کا مطالبہ کرکے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے اور بیشتر شرکاء اسی طرح ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، بجز ان لوگوں کے جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں اور وہ بہت تھوڑے ہیں اور حضرت دائود نے گمان کیا کہ ہم نے اس کو آزمایا، تو اس نے اپنے رب سے استغفار کیا اور سجدے میں گرگیا اور توبہ کی۔ ) حضرت دائود (علیہ السلام) کا فیصلہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے مظلوم فریق کا بیان سن کر اور دوسرے فریق کی خاموشی سے اندازہ فرما لیا کہ زیادتی اس دولت مند فریق نے کی ہے اور پھر بےلاگ فیصلہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس شخص نے تمہاری دنبی کو اپنی دمبیوں میں ملا لینے کا مطالبہ کرکے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے۔ اور ساتھ ہی اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ بیشتر شرکائِ معاملہ ہمیشہ کمزور فریق پر ظلم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں اس بات کا خیال نہیں ہوتا کہ جو شخص نادار ہے اس کی ناداری کا علاج کیا جائے۔ بلکہ انھیں فکر اپنی دولت کو بڑھانے کی ہوتی ہے۔ چاہے اس کی امارت دوسرے کی ناداری پر اٹھانی پڑے۔ البتہ اس ظلم اور زیادتی سے صرف وہ لوگ بچتے ہیں جن کے پاس ایمان اور عمل صلاح کی پونجی ہوتی ہے۔ اور انھیں یقین ہے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر بات کی جواب دہی کرنی ہے۔ اور ایسے لوگ انسانوں میں بہت زیادہ نہیں بہت تھوڑے ہیں، اسی لیے ظلم کا سلسلہ کہیں رکنے میں نہیں آتا۔ اس کے بعد ایک نہایت حیران کن بات آیت کریمہ میں فرمائی گئی ہے کہ جیسے ہی حضرت دائود (علیہ السلام) نے معاملے کے دونوں فریقوں کا فیصلہ سنایا، فوراً اس آئینہ میں انھیں اپنے کسی عمل کی جھلک دکھائی دی اور محسوس کیا کہ کسی حد تک اس سے ملتی جلتی بات مجھ سے بھی صادر ہوئی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ” اوّاب “ بنایا ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے بہت ڈرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس تعلق میں بادشاہت بھی حائل ہونے میں نہیں آتی۔ چناچہ جیسے ہی انھیں اپنے کسی عمل کا استحضار ہوا تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک گئے۔ اور استغفار و توبہ کے لیے سجدے میں گرپڑے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کا تنبہ اور اس کی تفصیل سوال یہ ہے کہ وہ کیا بات تھی جس نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو پریشان کردیا۔ قرآن کریم نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی اور اسے اپنے اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے درمیان ایک راز ہی رہنے دیا۔ اسے دیکھتے ہوئے اس سے ہٹ کر اور کوئی بات صحیح نہیں ہوسکتی کہ جس بات کو اللہ تعالیٰ نے راز رکھا ہے ہمیں کیا حق ہے کہ ہم اس کی کھوج کرید کے پیچھے پڑیں۔ اس لیے خیال اور گمان کے گھوڑے دوڑانے کی بجائے ہمیں اس واقعہ کی روح کو اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے طرز عمل کو اپنے لیے روشنی کا سامان بنانا چاہیے۔ اس لیے حافظ ابن کثیر جیسے محقق اور مفسر نے اپنی تفسیر میں اسی پر عمل کرتے ہوئے واقعہ کی تفصیلات سے خاموشی اختیار کی ہے۔ اور کوئی شک نہیں کہ یہ سب سے زیادہ محتاط اور سلامتی کا راستہ ہے۔ اسی لیے علمائے سلف سے منقول ہے کہ اِبْہَمُوْا مَااَبْہَمَہُ اللّٰہُ ” یعنی جس چیز کو اللہ نے مبہم چھوڑا ہے تم بھی اسے مبہم رہنے دو ۔ “ البتہ دوسرے مفسرین نے روایات و آثار کی روشنی میں اس امتحان اور آزمائش کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے ہم اسے معارف القرآن سے نقل کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک عامیانہ روایت تو یہ مشہور ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی نظر ایک مرتبہ اپنے ایک فوجی افسر اور یا کی بیوی پر پڑگئی تھی جس سے ان کے دل میں اس کے ساتھ نکاح کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور انھوں نے اور یا کو قتل کرانے کی غرض سے اسے خطرناک ترین مشن سونپ دیا جس میں وہ شہید ہوگیا اور بعد میں آپ نے اس کی بیوی سے شادی کرلی۔ اس عمل پر تنبیہ کرنے کے لیے یہ دو فرشتے انسانی شکل میں بھیجے گئے۔ لیکن یہ روایت بلاشبہ ان خرافات میں سے ہے جو یہودیوں کے زیراثر مسلمانوں میں بھی پھیل گئی تھیں۔ یہ روایت دراصل بائیبل کی کتاب سموئیل دوم باب 11 سے ماخوذ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بائیبل میں کھلم کھلا حضرت دائود (علیہ السلام) پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے معاذاللہ اور یا کی بیوی سے نکاح سے قبل ہی زنا کا ارتکاب کیا تھا اور ان تفسیری روایتوں میں زنا کے جزء کو حذف کردیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے اس اسرائیلی روایت کو دیکھا اور اس میں سے زنا کے قصے کو نکال کر اسے قرآن کریم کی مذکورہ آیتوں پر چسپاں کردیا حالانکہ یہ کتاب سموئیل ہی سرے سے بےاصل ہے۔ اور یہ روایت قطعی کذب و افتراء کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے تمام محقق مفسرین نے اس کی سخت تردید کی ہے۔ حافظ ابن کثیر ( رض) کے علاوہ علامہ ابن جوزی، قاضی ابوالسعود، قاضی بیضاوی، قاضی عیاض، امام رازی، علامہ ابوحیان اندلسی، خازن، زمحشری، ابن خرم، علامہ حفاجی، احمد بن نصر، ابوتمام اور علامہ آلوسی وغیرہ نے بھی اسے کذب و افتراء قرار دیا ہے۔ حافظ ابن کثیر ( رح) لکھتے ہیں :۔ ” بعض مفسرین نے یہاں ایک قصہ ذکر کیا ہے جس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ آنحضرت ﷺ سے اس بارے میں کوئی ایسی بات ثابت نہیں جس کا اتباع واجب ہو، صرف ابن ابی حاتم ( رح) نے یہاں ایک حدیث روایت کی ہے مگر اس کی سند صحیح نہیں ہے۔ “ غرض بہت سے دلائل کی روشنی میں جن کی کچھ تفصیل امام رازی ( رح) کی تفسیر کبیر اور ابن جوزی ( رح) کی زادالمسیر وغیرہ میں موجود ہے یہ روایت تو اس آیت کی تفسیر میں قطعاً خارج از بحث ہوجاتی ہے۔ حکیم الامت حضرت تھانوی ( رح) نے اس آزمائش اور لغزش کی تشریح اس طرح فرمائی ہے کہ مقدمہ کے یہ دو فریق دیوار پھاند کر داخل ہوئے اور طرز مخاطبت بھی انتہائی گستاخانہ اختیار کیا کہ شروع ہی میں حضرت دائود (علیہ السلام) کو انصاف کرنے اور ظلم نہ کرنے کی نصیحتیں شروع کردیں، اس انداز کی گستاخی کی بنا پر کوئی عام آدمی ہوتا تو انھیں جواب دینے کے بجائے الٹی سزا دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کا یہ امتحان فرمایا کہ وہ بھی غصہ میں آکر انھیں سزا دیتے ہیں یا پیغمبرانہ عفو و تحمل سے کام لے کر ان کی بات سنتے ہیں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) اس امتحان میں پورے اترے، لیکن اتنی سی فروگزاشت ہوگئی کہ فیصلہ سناتے وقت ظالم کو خطاب کرنے کے بجائے مظلوم کو مخاطب فرمایا جس سے ایک گو نہ جانبداری مترشح ہوتی تھی مگر اس پر فوراً تنبہ ہوا اور سجدے میں گرگئے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف فرما دیا۔ (بیان القرآن) بعض مفسرین نے لغزش کی یہ تشریح کی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے مدعا علیہ کو خاموش دیکھا تو اس کا بیان سنے بغیر صرف مدعی کی بات سن کر اپنی نصیحت میں ایسی باتیں فرمائیں جن سے فی الجملہ مدعی کی تائید ہوتی تھی حالانکہ پہلے مدعا علیہ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ اس کا موقف کیا ہے ؟ حضرت دائود (علیہ السلام) کا یہ ارشاد اگرچہ صرف ناصحانہ انداز میں تھا اور ابھی تک مقدمہ کے فیصلے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ تاہم ان جیسے جلیل القدر پیغمبر کے شایان شان نہیں تھا۔ اسی بات پر آپ بعد میں متنبہ ہو کر سجدہ ریز ہوئے۔ (روح المعانی) بعض حضرات نے فرمایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنا نظم اوقات ایسا بنایا ہوا تھا کہ چوبیس گھنٹے میں ہر وقت گھر کا کوئی نہ کوئی فرد عبادت، ذکر اور تسبیح میں مشغول رہتا تھا، ایک روز انھوں نے باری تعالیٰ سے عرض کیا کہ پروردگار ! دن اور ات کی کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی جس میں دائود کے گھر والوں میں سے کوئی نہ کوئی آپ کی عبادت، نماز اور تسبیح و ذکر میں مشغول نہ ہو، باری تعالیٰ نے فرمایا کہ دائود ! یہ سب کچھ میری توفیق سے ہے اگر میری مدد شامل حال نہ ہو تو یہ بات تمہارے بس کی نہیں ہے، اور ایک دن میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دوں گا۔ اس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ وہ وقت حضرت دائود (علیہ السلام) کے مشغول عبادت ہونے کا تھا۔ اس ناگہانی قضیہ سے ان کے اوقات کا نظم مختل ہوگیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) جھگڑا چکانے میں مشغول ہوگئے، آل دائود (علیہ السلام) کا کوئی اور فرد بھی اس وقت عبادت اور ذکرالٰہی میں مصروف نہ تھا۔ اس سے حضرت دائود (علیہ السلام) کو تنبہ ہوا کہ وہ فخریہ کلمہ جو زبان سے نکل گیا تھا، یہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔ اس لیے آپ نے استغفار فرمایا اور سجدہ ریز ہوگئے۔ اس توجیہہ کی تائید حضرت ابن عباس ( رض) کے ایک ارشاد سے بھی ہوتی ہے جو مستدرک حاکم میں صحیح سند کے ساتھ منقول ہے۔ (احکام القرآن) ان تمام تشریحات میں یہ بات مشترکہ طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ مقدمہ فرضی نہیں بلکہ حقیقی تھا اور صورت مقدمہ کا حضرت دائود (علیہ السلام) کی آزمائش یا لغزش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے برخلاف بہت سے مفسرین نے اس کی ایسی تشریح فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مقدمہ کے یہ فریقین انسان نہیں بلکہ فرشتے تھے اور انھیں اللہ تعالیٰ نے اس لیے بھیجا تھا کہ وہ ایسی فرضی صورت مقدمہ پیش کریں جس سے حضرت دائود (علیہ السلام) کو اپنی تغزش پر تنبہ ہوجائے۔ چناچہ ان حضرات کا یہ کہنا ہے کہ اور یا کو قتل کرانے اور اس کی بیوی سے نکاح کرلینے کا وہ قصہ تو غلط ہے لیکن حقیقت حال یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں کسی شخص سے یہ فرمائش کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا کہ ” تم اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کا نکاح مجھ سے کردو۔ “ اس زمانے میں اس فرمائش کا عام رواج بھی تھا۔ اور یہ بات خلاف مروت بھی نہ سمجھی جاتی تھی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اسی بنا پر اور یا سے یہی فرمائش کی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ دو فرشتے بھیج کر آپ کو تنبیہ فرمائی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ بات صرف اتنی تھی کہ اور یا نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا ہوا تھا، حضرت دائود علیہ لسلام نے بھی اسی عورت کو اپنا پیغام دے دیا، اس سے اور یا کو بہت رنج ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ کے لیے یہ دو فرشتے بھیجے اور ایک لطیف پیرایہ میں اس لغزش پر تنبیہ فرمائی۔ قاضی ابویعلیٰ ( رح) نے اس توجیہہ پر قرآن کریم کے الفاظ وَعَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ سے استدلال فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ معاملہ محض خطبہ (منگنی) کے سلسلہ میں پیش آیا تھا۔ اور ابھی حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس سے نکاح نہیں فرمایا تھا۔ (زادالمسیرلابن الجوزی ( رح) ۔ ص 116۔ ج 7) اکثر مفسرین نے ان آخری دو تشریحات کو ترجیح دی ہے اور ان کی تائید بعض آثار صحابہ سے بھی ہوتی ہے۔ (ملاحظہ ہو روح المعانی، تفسیر ابی السعود، زادالمسیر، تفسیر کبیر وغیرہ) لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس آزمائش اور لغزش کی تفصیل نہ قرآن کریم سے ثابت ہے نہ کسی صحیح حدیث سے۔ اس لیے اتنی بات تو طے شدہ ہے کہ اور یا کو قتل کروانے کا جو قصہ مشہور ہے وہ غلط ہے لیکن اصل واقعہ کے بارے میں مذکورہ بالا تمام احتمالات موجود ہیں اور ان میں سے کس ایک کو قطعی اور یقینی نہیں کہا جاسکتا، لہٰذا سلامتی کی راہ وہی ہے جو حافظ ابن کثیر ( رح) نے اختیار کی کہ جس بات کو اللہ تعالیٰ نے مبہم چھوڑا ہے، ہم اپنے قیاسات اور اندازوں کے ذریعہ اس کی تفصیل کی کوشش نہ کریں جبکہ اس سے ہمارے کسی عمل کا تعلق نہیں۔ اس ابہام میں بھی یقینا کوئی حکمت ہے، لہٰذا صرف اتنے واقعہ پر ایمان رکھا جائے جو قرآن کریم میں مذکور ہے، باقی تفصیلات کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کیا جائے۔ سجدہ تلاوت کے احکام وَخَرَّرَاکِعًاوَّاَنَابَ ” حضرت دائود سجدے میں گرگئے اور توبہ کی۔ “ یہ آیت سجدہ ہے۔ امام ابوحنیفہ ( رح) کے نزدیک اس آیت کو پڑھنے سے سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔ امامِ شافعی کہتے ہیں کہ یہ آیت سجدہ نہیں بلکہ آیت توبہ ہے۔ یعنی اس میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی توبہ کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں جتنی روایات احادیث میں آئی ہیں ان سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ اس آیت پر سجدہ کیا۔ البتہ ایک موقع پر فرمایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا، ہم شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں۔ اس سے امام شافعی نے یہ سمجھا ہے کہ اس سے سجدے کا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت عبداللہ ابن عباس کی ایک روایت جسے مجاہد نے نقل کیا ہے اس میں وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا ہے اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدَا ھُمُ اقْتَدِہٖ ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے لہٰذا آپ ان کے طریقے کی پیروی کریں۔ “ اس آیت میں لوگوں سے مراد انبیائے کرام ہیں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) بھی ایک نبی تھے۔ انھوں نے اگر اس موقع پر سجدہ کیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی ان کی اقتداء میں سجدہ کیا ہے تو آیت کے الفاظ کے حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ بہرحال امام ابوحنیفہ ( رح) اور امام شافعی ( رح) کے درمیان اس آیت پر سجدہ کرنے کے معاملے میں اختلاف ہے لیکن ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اس سے یہ بات بہرحال واضح ہوتی ہے کہ اس آیت پر سجدہ کرنا بہتر ہے۔ اس آیت میں رکوع کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی جھکنے کے ہیں لیکن اکثر مفسرین نے اس سے مراد سجدہ لیا ہے۔ اسی بناء پر امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ آیت سجدہ سن کر یا پڑھ کر آدمی سجدے کی بجائے صرف رکوع بھی کرسکتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رکوع کا لفظ استعمال کرکے سجدہ مراد لیا ہے تو معلوم ہوا کہ رکوع سجدے کا قائم مقام ہوسکتا ہے۔ البتہ اس سلسلے میں فقہاء نے کچھ وضاحتیں کی ہیں ان کا پیش نظر رہنا ضروری ہے۔ 1 رکوع میں سجدہ صرف اس وقت ادا ہوگا جبکہ آیت سجدہ تلاوت کرنے کے فوراً بعد یا زیادہ سے زیادہ دو تین آیتیں مزید تلاوت کرکے رکوع کرلیا جائے۔ اور اگر آیت سجدہ کے بعد کھڑے کھڑے طویل قرأت کی تو سجدہ رکوع میں ادا نہیں ہوگا۔ (بدائع) 2 یہ ضروری ہے کہ سجدے کی آیت نماز میں پڑھی گئی ہو۔ نماز سے باہر تلاوت کرنے میں رکوع سے سجدہ ادا نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ رکوع صرف نماز میں عبادت ہے، نماز سے باہر مشروع نہیں۔ (بدائع) 3 اگر سجدہ تلاوت رکوع میں ادا کرنے کا خیال ہو تو رکوع میں جاتے وقت سجدہ تلاوت کی نیت کر لینی چاہیے۔ ورنہ اس رکوع سے سجدہ ادا نہیں ہوگا۔ (بدائع) 4 افضل بہرحال یہی ہے کہ سجدہ تلاوت کو نماز کے فرض رکوع میں ادا کرنے کی بجائے مستقل سجدہ کیا جائے۔ اور سجدہ سے اٹھ کر ایک دو آیتیں تلاوت کرکے پھر رکوع میں جائیں۔ (بدائع)
Top