Tafseer-e-Mazhari - Saad : 25
فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ
فَغَفَرْنَا : پس ہم نے بخش دیا لَهٗ : اس کی ذٰلِكَ ۭ : یہ وَاِنَّ : اور بیشک لَهٗ : اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
تو ہم نے ان کو بخش دیا۔ اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے
فغفرنا لہ ذلک وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب پس ہم نے ان کا وہ قصور (جس کی انہوں نے معافی مانگی تھی) معاف کردیا اور بلاشبہ (اس مغفرت کے بعد) ان کیلئے ہماری بارگاہ میں (خاص) قرب اور خوبی انجام ہے۔ لَزُلْفٰی یعنی ناقابل بیان ‘ بےکیف قرب اور وہ اعلیٰ درجہ جو ندامت و استغفار کے بعد ان کو حاصل ہوا ‘ اگر ان سے وہ لغزش نہ ہوتی توہ وہ مرتبہ ان کو حاصل نہ ہوتا۔ بعض اہل علم کے نزدیک زلفٰی سے مراد ہے دنیاوی خیر کی زیادتی اور آخرت میں اعلیٰ درجہ۔ مَاٰب انجام ‘ نتیجہ جس کی طرف وہ لوٹیں گے۔ میں کہتا ہوں : جس راوی نے حضرت داؤد کے متعلق یہ بیان کیا کہ آپ اور یا کا قتل ہوجانا ہی چاہتے تھے تاکہ اس کی بیوی سے نکاح کرلیں اور اسی لئے انہوں نے بار بار میدان جنگ میں بھیجا ‘ یہ سراسر جھوٹ اور پیغمبر پر تہمت تراشی ہے اور آپ اس تہمت سے پاک تھے۔ قرآنی الفاظ سے تو اتنا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے لئے اس بات (یعنی غیر عورت سے نکاح) کی خواہش کی جو ان کو حاصل نہ تھی ‘ باوجودیکہ ان کو اس جیسی ننانوے (عورتیں) حاصل تھیں۔ اس پر تنبیہ کرنے کیلئے اللہ نے مقدمہ کی شکل دے کر فرشتوں کو بھیجا۔ حضرت داؤد فوراً متنبہ ہوگئے اور انہوں نے توبہ و استغفار کی۔ مفسر مدارک نے لکھا ہے کہ حضرت داؤد کے زمانہ والوں میں ایک رواج عام تھا اور ہمدردی کے طور پر لوگ ایسا کرلیا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص (یعنی دوست) دوسرے شخص سے درخواست کرتا کہ تو اپنی بیوی کو چھوڑ دے تاکہ میں اس سے نکاح کرلوں تو وہ ایسا کردیتا تھا ‘ جیسے انصار نے مہاجرین کی ہمدردی میں ایسا کیا تھا۔ اتفاقاً جب حضرت داؤد کی نظر اور یا کی بیوی پر پڑگئی اور وہ عورت آپ کو پسند آگئی تو حسب رواج آپ نے اور یا سے خواہش کی کہ وہ اپنی بی بی کو طلاق دے دے۔ اور یا کو حضرت داؤد کی درخواست مسترد کرنے سے شرم آئی اور اس نے طلاق دے دی اور حضرت داؤد نے اس کی مطلقہ سے نکاح کرلیا۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت داؤد نے وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جو ہمارے پیغمبر ﷺ نے اختیار کیا تھا۔ جب حضرت زید کی بیوی حضرت زینب کی جانب رسول اللہ ﷺ کا میلان خاطر ہوگیا تو آپ نے حضرت زید سے طلاق دینے کی درخواست نہیں کی ‘ بلکہ فرمایا : اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ اپنے پاس اپنی بیوی کو روکے رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ لیکن (بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت زید نے طلاق دے دی اور) اللہ نے زینب سے آپ کا نکاح کرا دیا۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت داؤد پر اللہ کی طرف سے عتاب ہوا اور آپ نے توبہ و استغفار کی (جو قبول ہوگئی اور معافی مل گئی) قرآن مجید کے الفاظ بھی اس بیان کی تائید کر رہے ہیں ‘ کیونکہ جب مدعی نے دعویٰ کیا تو مدعیٰ علیہ کے خلاف اس نے یہ کہا کہ یہ کہتا ہے اَکْفِلْنِیْھَا۔ مدعی نے مدعیٰ علیہ پر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے قتل کرنا چاہتا ہے اور حضرت داؤد نے بھی فیصلہ میں یہ کہا : قَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ لَعْجَتِکَ اِلٰی نِعَاجِہٖ (اور یہ نہیں فرمایا کہ اس نے جو تجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا ‘ یہ ظلم کیا) وا اللہ اعلم۔ بغوی نے لکھا ہے کہ وہب بن منبہ نے بیان کیا : جب اللہ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کرلی ‘ تب بھی آپ برابر اپنے قصور پر روتے رہے ‘ رات دن کسی وقت آپ کے آنسو نہ رکتے تھے۔ اس وقت آپ کی عمر ستر سال کی تھی ‘ اس قصور کے بعد آپ نے اپنی عمر کے چار حصے کر دئیے : ایک دن بنی اسرائیل کے معاملات کے فیصلہ کرنے کیلئے مقرر کیا ‘ ایک دن عورتوں کیلئے ‘ ایک دن جنگلوں اور پہاڑوں میں جا کر اللہ کی پاکی بیان کرنے (اور حمد و ثنا کرنے) کا اور ایک روز اپنے گھر کے اندر رہ کر نوحہ کرنے کا۔ آپ کے گھر کے اندر چار ہزار عبادت کے مقام تھے ‘ جب آپ گھر میں خلوت گزیں ہوجاتے تو (چار ہزار) تارک الدنیا درویش آپ کے پاس آکر جمع ہوجاتے ‘ پھر آپ ان درویشوں کے ساتھ نوحہ کرتے اور درویش بھی اس رونے میں آپ کے مددگار ہوتے۔ پھر جب جنگل میں پھرنے کا دن ہوتا تو آپ صحراء میں نکل جاتے اور (زیر و بم یعنی) لَے کے ساتھ اونچی آواز سے روتے ‘ پہاڑ اور پتھر اور چوپائے اور پرندے بھی آپ کے ساتھ روتے ‘ یہاں تک کہ ان سب کے رونے سے نالے بہہ نکلتے۔ پھر آپ دریا کے کنارے پر پہنچتے اور لے کے ساتھ اونچی آواز سے نوحہ کرتے اور مچھلیاں اور دریائی چوپائے اور دریائی پرندے اور درندے ‘ سب ہی آپ کے ساتھ رونے میں شریک ہوتے ‘ پھر آپ شام کے وقت وہاں سے لوٹتے تھے۔ گھر کے اندر نوحہ کا دن ہوتا تو ایک منادی ندا کرتا : آج داؤد کے گریہ و بکا کا دن ہے ‘ جو شخص اس رونے میں ان کی موافقت کرنا چاہے ‘ وہ آجائے۔ پھر عبادت گاہوں کے احاطے کے اندر آپ تین فرش بچھوا دیتے جن کے اندر کھجور کی چھال کے ریشے بھرے ہوتے تھے ‘ آپ فرش پر جا کر بیٹھ جاتے ‘ پھر چار ہزار درویش اپنی لمبی لمبی ٹوپیاں پہنے ‘ لاٹھیاں ہاتھوں میں لئے اندر آکر فرش پر بیٹھ جاتے۔ حضرت داؤد اپنے گناہ پر اونچی آواز سے رونا شروع کرتے اور درویش بھی آپ کے ساتھ اونچی آوازوں سے نوحہ کرتے۔ روتے روتے یہ حالت ہوجاتی کہ فرش آپ کے آنسوؤں میں ڈوب جاتا اور آپ اس میں گر کر چوزۂ مرغ کی طرح تڑپنے لگتے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان آکر آپ کو (اپنے ہاتھوں میں) اٹھاتے تھے۔ حضرت داؤد دونوں ہاتھوں کا چلو بنا کر آنسوؤں کا پانی اس میں بھر کر اپنے چہرے پر مل لیتے اور کہتے : اے میرے رب ! میرا قصور معاف فرما دے۔ اگر حضرت داؤد کے رونے کا ساری دنیا کے رونے والوں سے موازنہ کیا جائے تو برابر ہی ہوگا۔ وہب کا بیان ہے : حضرت داؤد اوپر سر نہیں اٹھاتے تھے۔ جب فرشتے نے آپ سے کہا : داؤد ! تمہارا آغاز گناہ اور انجام مغفرت ہے ‘ اپنا سر اٹھاؤ ‘ اس وقت آپ نے سر اٹھایا۔ اس کے بعد زندگی بھر جب تک پانی میں آپ نے اپنے آنسوؤں کو شامل نہ کرلیا ‘ پانی نہ پیا اور جب تک کھانے کو اشکوں سے تر نہ کرلیا ‘ نہ کھایا۔ اوزاعی نے حدیث مرفوع بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : داؤد کی دونوں آنکھیں دو مشکیزوں کی طرح (ہر وقت) پانی ٹپکاتی ہی رہتی تھیں۔ چہرے پر آنسو بہنے سے ایسے گڑھے پڑگئے تھے جیسے زمین میں پانی (جاری ہونے) سے گڑھے پڑجاتے ہیں۔ وہب نے بیان کیا : جب اللہ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کرلی تو حضرت داؤد نے عرض کیا : اے میرے رب ! تو نے میرا قصور معاف کردیا ‘ لیکن یہ کیسے ہو کہ اپنے گناہ کو (کبھی) نہ بھولوں اور ہمیشہ معافی مانگتا رہوں اپنے لئے بھی اور دوسرے گناہگاروں کیلئے بھی۔ اس درخواست پر اللہ نے ان کے دائیں ہاتھ پر ان کا گناہ لکھ دیا (جس کا مٹنا ناممکن تھا) جب آپ ہاتھ سے کھانا یا پانی لیتے تو گناہ نظر کے سامنے آجاتا اور جب لوگوں کو خطاب کرنے کھڑے ہوتے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے تو لوگ گناہ کی تحریر دیکھنے آگے آجاتے اور جب دعا کرتے تو اس گناہ کو سامنے رکھ کر اپنے لئے استغفار سے پہلے دوسرے گناہگاروں کیلئے استغفار کرتے۔ قتادہ نے حسن کا بیان نقل کیا ہے کہ اس گناہ کے بعد حضرت داؤد ہمیشہ گناہگاروں کے ساتھ ہی بیٹھتے تھے اور فرماتے تھے : آؤ داؤد ! گناہگاروں کے پاس آؤ ‘ اور جب تک پانی میں اپنے آنسو شامل نہ کرلیتے ‘ کبھی پانی نہ پیتے تھے اور خشک روٹی کے ٹکڑے کو رو رو کر اشکوں سے بھگو لیتے ‘ پھر اس پر کچھ نمک اور خاک چھڑک کر کھاتے اور فرماتے : گناہگاروں کا یہی کھانا ہے۔ اس گناہ سے پہلے حضرت داؤد آدھی رات سوتے اور نصف ایام (یعنی ایک روز بیچ میں ناغہ کر کے) روزے رکھتے تھے ‘ لیکن اس گناہ کے بعد ہمیشہ ہی دن میں روزے رکھتے اور رات بھر نماز پڑھتے تھے۔ ثابت کا بیان ہے : جب حضرت داؤد اللہ کے عذاب کو یاد کرتے تو آپ کا جوڑ جوڑ ڈھیلا پڑجاتا کہ بغیر بندھن سے باندھنے کے ان میں قوت نہ آتی تھی اور جب اللہ کی رحمت کو یاد کرتے تو جوڑ اپنے اصلی ٹھکانوں پر آجاتے۔ اس قصہ میں یہ بھی (بعض روایات میں) آیا ہے کہ پہلے آپ کی تلاوت سننے کیلئے جنگلی جانور اور پرندے جمع ہوجاتے تھے ‘ لیکن جب آپ سے قصور سرزد ہوگیا تو چوپائے اور پرندے آپ کی آواز کو نہیں سنتے تھے اور کہتے تھے : آپ کا گناہ آپ کی آواز کی مٹھاس کو لے گیا۔
Top