Tafseer-e-Mazhari - Saad : 40
وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠   ۧ
وَاِنَّ لَهٗ : اور بیشک اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قُرب اور عمدہ مقام ہے
وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب اور (علاوہ اس کے) اس کیلئے ہمارے یہاں (خاص) قرب بھی ہے اور اچھا انجام بھی۔ ھٰذَا عَطَآءُنَا یعنی ہم نے سلیمان سے کہا کہ یہ حکومت اور ایسا تسلط جو کسی اور کو نہیں دیا گیا ‘ صرف تم کو دیا گیا ہے ‘ ہمارا خاص عطیہ ہے۔ فَامْنُنْ سو جس کو چاہو دو ۔ اَوْ اَمْسِکْ اور جس سے چاہو روک رکھو ‘ نہ دو ۔ بغیر حسابتم سے اس کی حساب فہمی نہ ہوگی کہ کیوں دیا اور کیوں نہ دیا ‘ کیونکہ تصرف کا پورا اختیار تم کو دے دیا گیا ہے۔ حسن نے کہا : اللہ نے جس نعمت سے سرفراز کیا ‘ آخرکار وہ نعمت اس کیلئے انجام بد بن گئی سوائے حضرت سلیمان کے ‘ کیونکہ ان کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ کسی کو دیں تو ان کو ثواب ملے گا ‘ نہ دیں تو انجام میں مواخذہ نہ ہوگا۔ بغیر حساب کا تعلق عطاء سے بھی ہوسکتا ہے ‘ اس صورت میں عطاء سے مراد عطاء کثیر ہوگی ‘ یعنی بےحساب ‘ ان گنت نعمت ہم نے تم کو دی ہے۔ مقاتل نے کہا : ھذا عطاؤنا کا یہ مطلب ہے کہ یہ یعنی جنات کی تسخیر ہمارا خاص علیہ ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے۔ فَامْنُنْ سو تم جس کو ان میں سے چاہو ‘ چھوڑ دو اور جس کو اپنی بندش میں رکھنا چاہو ‘ رکھو۔ چھوڑنے اور بند رکھنے کا تم سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ لَزُلْفٰی یعنی دنیا کی حکومت کے ساتھ آخرت میں ان کو ہمارا قرب بھی حاصل ہوگا اور لوٹنے کی جگہ اچھی ہوگی ‘ یعنی جنت۔
Top