Kashf-ur-Rahman - Saad : 40
وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠   ۧ
وَاِنَّ لَهٗ : اور بیشک اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
اور یقینا ہمارے ہاں سلیمان کے لئے بڑا قرب اور بڑی اچھی باز گشت ہے۔
(40) اور یقینا ہمارے ہاں سلیمان کے لئے خاص قرب اور بڑی اچھی باز گشت ہے۔ یعنی یہ سب طاقتیں اور زروجواہر دے کر فرمایا کہ یہ سب کچھ ہمارا عطیہ ہے چاہے کسی کو دو یا نہ دو تم سے کوئی مواخذہ اور تم پر کوئی داروگیر نہیں۔ یعنی ہر قسم کے تصرف کا تجھ کو اختیار ہے تو محض خازن اور حارس نہیں ہے یا بغیر حساب عطائونا کے متعلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ دیا ہے وہ بےحساب ہے نہ کوئی شمار کرسکتا ہے اور نہ گھیر سکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جنات کا مسخرا کرنا ہماری بخشش ہے اب تو چاہے جس پر احسان کر اور چھوڑ دے اور جس کو چاہے قیدرکھ اور اس سے کام لے۔ آگے ان کے خصوصی قرب اور اچھی بازگشت کا ذکر فرمایا جیسے اوپر حضرت دائود کے لئے فرمایا تھا حسن مآب سے یہاں جنت مراد ہے ۔ تنبیہ حضرت دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق بعض حضرات نے بہت سے رطب و یا بس قصے نقل کئے ہیں جو صحت سے دور ہیں ہم نے ان سب کو نظر انداز کردیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ اور مہربانی کہ اقی دنیاوی اور مختار کردیا حساب معاف کر کر لیکن وہ کھاتے تھے اپنے ہاتھ کی محنت سے ٹوکری بنا کر۔ آگے پیغمبروں کا ذکر فرمایا چونکہ ابتداء میں بطور تسلی نبی کریم ﷺ کو فرمایا تھا۔ اصبر علی ما یقولون اسی سلسلے میں حضرت ایوب کا ذکر فرمایا۔
Top