Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 38. Saad · Ayah 40

Tafseer
  1. وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ع﴿40﴾

    1. وَاِنَّ لَهٗاور بیشک اس کے لیے
    2. عِنْدَنَاہمارے پاس
    3. لَزُلْفٰىالبتہ قرب
    4. وَحُسْنَاور اچھا
    5. مَاٰبٍٹھکانا
Translation · Tafheem-ul-Quran
یقیناً اُس کے لیے ہمارے ہاں تقرُّب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔ 40  
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة صٓ 40 اس ذکر سے اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندے کی اکڑ جتنی مبغوض ہے، اس کی عاجزی کی ادا اتنی ہی محبوب ہے۔ بندہ اگر قصور کرے اور تنبیہ کرنے پر الٹا اور زیادہ اکڑ جائے تو انجام وہ ہوتا ہے جو آگے آدم و ابلیس کے قصے میں بیان ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس ذرا لغزش بھی اگر بندے سے ہوجائے اور وہ توبہ کر کے عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جائے تو اس پر وہ نوازشات فرمائی جاتی ہیں جو داؤد و سلیمان (علیہما السلام) پر فرمائی گئیں۔ حضرت سلیمان ؑ نے استغفار کے بعد جو دعا کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے لفظ بلفظ پورا کیا اور ان کو فی الواقع ایسی بادشاہی دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی تھی، نہ ان کے بعد آج تک کسی کو عطا کی گئی۔ ہواؤں پر تصرُّف اور جنوں پر حکمرانی ایک ایسی غیر معمولی طاقت ہے جو انسانی تاریخ میں صرف حضرت سلیمان ہی کو بخشی گئی ہے، کوئی دوسرا اس میں ان کا شریک نہیں ہے۔