Tafseer-e-Madani - Saad : 40
وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠   ۧ
وَاِنَّ لَهٗ : اور بیشک اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
اور (اس بےمثال دنیاوی ساز و سامان کے علاوہ) ان کے لئے ہمارے یہاں ایک خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانا بھی
56 حضرت سلیمان کے لیے ایک خاص انعام کا ذکر : سو اس سے حضرت سلیمان کے لیے ان کے حسن تصرف کے نتیجے اور انعام کا اعلان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان کیلئے ہمارے ہاں خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانہ بھی "۔ یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کہ دنیا میں آپ (علیہ السلام) کو نبوت و حکومت سے بھی سرفراز فرمایا گیا اور آخرت کی ابدی زندگی میں بھی بےمثال نعمتوں اور عظیم الشان مراتب و درجات سے نوازا گیا ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ الْحَنَّانِ الْمَنَّانِ الَّذِیْ لا حَدَّ لِکَرَمِہٖ وَ الاِحْسَانِ ۔ سو اس سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ یہ سب کچھ ملنے اور ان تمام عظیم الشان نعمتوں سے سرفراز ہونے کے باوجود حضرت سلیمان نہ کسی زعم و گھمنڈ میں مبتلا ہوئے اور نہ کسی طرح کا کوئی استکبار آپ میں پیدا ہوا۔ بلکہ اس سب کے باوجود آپکی شان عبدیت اور انابت و رجوع الی اللہ بدستور باقی رہی۔ اس لیے آپ اللہ تعالیٰ کے یہاں قرب خاص اور عمدہ ٹھکانے کی نعمت سے سرفراز ہوئے۔ سو انابت و رجوع الی اللہ ایک عظیم الشان صفت ہے۔ سو حضرت سلیمان اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ان نعمتوں میں اپنے حسن تصرف کے نتیجے میں جس کامیابی اور فائز المرامی سے سرشار ہوئے۔ اس ارشاد سے اس کے نتیجے اور اس کے انعام کا اعلان فرما دیا گیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Top