Anwar-ul-Bayan - Saad : 40
وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠   ۧ
وَاِنَّ لَهٗ : اور بیشک اس کے لیے عِنْدَنَا : ہمارے پاس لَزُلْفٰى : البتہ قرب وَحُسْنَ : اور اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
اور بیشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے
(38:40) وان لہ : ای وان مع ذلک المال والملک یعنی اس ملک اور سلطنت اور ان میں بہمہ نوع اختیارات تصرف دینے کے علاوہ ان کو بارگاہ الٰہی میں قرب اور حسن مآب (جنت کی خوشخبری) ہے۔ زلفی وحسن ماب۔ ملاحظہ ہو 38:25 ۔ متذکرہ بالا۔ واذکر ۔۔ کا عطف واذکر عبدنا داؤد پر (آیۃ : 17) پر ہے۔ عبدنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا بندہ۔ منصوب بوجہ مفعول اذکر۔ ایوب : عبدنا کا عطف بیان ہے یا اس کا بدل ہے۔ اذ نادی ربہ : عبدنا یا ایوب کا بدل اشتمال ہے۔ جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔ انی : ای بانی۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ی ضمیر واحد متکلم ۔ کہ بیشک میں ۔ مسنی۔ مس ماضی واحد مذکر غائب مس باب نصر سے۔ ن وقایہ ی ضمیر متکلم مفعول۔ اس نے مجھے پہنچائی۔ نصب۔ اسم۔ مضرت۔ تکلیف۔ دکھ۔
Top