Tafseer-e-Mazhari - Saad : 51
مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ
مُتَّكِئِيْنَ : تکیہ لگائے ہوئے وہ فِيْهَا : ان میں يَدْعُوْنَ : منگوائیں گے فِيْهَا : ان میں بِفَاكِهَةٍ : میوے كَثِيْرَةٍ : بہت سے وَّشَرَابٍ : اور شراب (مشروبات)
ان میں تکیٴے لگائے بیٹھے ہوں گے اور (کھانے پینے کے لئے) بہت سے میوے اور شراب منگواتے رہیں گے
متکئین فیھا یدعون فیھا بفاکھۃ کثیرۃ و شراب ان باغوں میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور وہاں (جنت کے خادموں سے) بہت سے لذیذ پھل اور پینے کی چیزیں منگوائیں گے۔ شراب میں تنوین تکثیر سے مراد ہے کثیر نوشیدنی شربت۔ پہلے فاکھۃ کثیرۃ کہا جا چکا ‘ اسلئے دوبارہ شراب کے ساتھ لفظ کثیر ذکر کرنے کی ضرورت نہیں (مطاعم اور مآکل کی بجائے) صرف فاکہہ کا ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اہل جنت کا کچھ کھانا محض لذت اندوزی کیلئے ہوگا ‘ حصول غذائیت کیلئے نہیں ہوگا۔ غذا کی ضرورت تو اسلئے ہوتی ہے کہ اجزاء جسم کو تحلیل شدہ قوت کو بدل جائے (اور جنت کے اندر قوت کے تحلیل ہونے اور کمزور پڑجانے کا کوئی احتمال ہی نہیں ہے) ۔
Top