Tafseer-e-Madani - Saad : 51
مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ
مُتَّكِئِيْنَ : تکیہ لگائے ہوئے وہ فِيْهَا : ان میں يَدْعُوْنَ : منگوائیں گے فِيْهَا : ان میں بِفَاكِهَةٍ : میوے كَثِيْرَةٍ : بہت سے وَّشَرَابٍ : اور شراب (مشروبات)
ان میں وہ تکئے لگائے (نہایت آرام و سکون کے ساتھ) بیٹھے ہوں گے (اور اپنی مرضی و خواہش کے مطابق) طلب کر رہے ہوں گے طرح طرح کے بکثرت پھل اور قسما قسم کے مشروبات
67 اہل جنت کی خوشحالی اور فارغ البالی کی ایک تصویر : سو اہل جنت کی خوشحالی اور ان کی فارغ البالی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے اور سکون و اطمینان کے ساتھ طلب کر رہے ہوں گے قسما قسم کے پھل اور طرح طرح کے مشروبات۔ عربی زبان میں " شراب " کا لفظ اس معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتا ہے جس معنیٰ میں ہماری زبان اور محاورے میں ہوتا ہے۔ بلکہ عربی زبان میں " شراب " ہر مشروب کو کہا جاتا ہے ۔ " کل ما یشرب " ۔ اور پھر وہاں پر مشروب ایک نہیں ہوگا قسما قسم کے ہوں گے۔ اس لئے ہم نے اپنے ترجمے میں اس کے اسی مفہوم کے اظہار کی کوشش کی ہے کہ اہل جنت وہاں پر حسب منشا جو اور جیسا مشروب جب چاہیں گے منگوائیں گے۔ جیسا کہ دنیا میں بادشاہوں کا طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی منشا اور مرضی کے مطابق جو چاہتے ہیں پاتے ہیں۔ سو اللہ کے ان نیک بندوں نے چونکہ اپنی دنیاوی زندگی میں اپنی خواہشات کو کچل کر من چاہی کی بجائے خدا چاہی زندگی گزاری ہوگی اس لئے اس کے بدلے میں ان کو وہاں پر من چاہی زندگی کی ابدی سعادت اور بےمثال نعمت نصیب ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی نصیب فرما دے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ بہرکیف یہ اس کیف و سرور اور خوشحالی و فارغ البالی کا ایک نمونہ و مظہر اور اس کی ایک ہلکی سے تصویر ہے جو اس ابدی اور حقیقی بادشاہی میں ان متقی اور پرہیزگار حضرات کو ہمیشہ کے لیے نصیب ہوگی جس کے مقابلے میں دنیا ساری کی دولت بھی ہیچ اور صفر ہے ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور زیغ وضلال کے ہر شائبے سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Top