Urwatul-Wusqaa - Saad : 51
مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ
مُتَّكِئِيْنَ : تکیہ لگائے ہوئے وہ فِيْهَا : ان میں يَدْعُوْنَ : منگوائیں گے فِيْهَا : ان میں بِفَاكِهَةٍ : میوے كَثِيْرَةٍ : بہت سے وَّشَرَابٍ : اور شراب (مشروبات)
وہ وہاں (باغات میں) تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور مشروبات کا حکم کرتے ہوں گے
باغات میں وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور جس پھل کو طلب کریں گے وہ پیش کردیا جائے گا 51۔ باغات میں ان کے لیے ایک طرح کے پھل نہیں بلکہ طرح طرح اور قسم قسم کے پھل ہوں گے۔ وہ اس طرح بیٹھے ہوں گے جو آرام دہ بیٹھنا ہوتا ہے چونکہ جس بیٹھنے سے ہم اس دنیا میں متعارف ہیں ، وہی بیٹھنا سب سے زیادہ آرام دہ بیٹھنا ہے جو تکیہ لگا کر بیٹھنا ہوتا ہے اس لیے اس جگہ اس طرح بیٹھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تکیہ لگا کر انسان بیٹھا ہوا اور پھر اس طرح بیٹھ کر جو وہ طلب کرے اس کے سامنے حاضر کردیا جائے تو اس کی انا کو نہایت تسکین ہوتی ہے اس لیے ارشاد فرمایا کہ وہ وہاں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور جس پھل کی طلب کریں گے وہ حاضر پائیں گے اس لیے ہم نے ان باغات کو سدا بہار باغات کہا ہے۔ غور کرو کہ جوں جوں قیامت کے قریب ہم جا رہے ہیں توں توں وہ باتیں خود بخود حکم الہٰی کے مطابق پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کہ اب بہت سے پھل تقریبا اس دنیا میں سدا بہار کے طور پر دیکھنے میں آ رہے ہیں شاید ہی کوئی پھل ہوگا جو پورا سال نظر نہ آتا ہو بہت سے پھل ، میوہ جات ، سبزیاں اور ترکاریاں ایسی ہیں جو پورا سال دیکھنے میں آتی ہیں اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے بعض پھل ایک دو ماہ تک نظر نہ آتے ہوں گے اور بعض تین چار ماہ تک لیکن آہستہ آہستہ یہ مدت کم ہوتی نظر آتی ہے بلکہ ہر سال آٹھ دس دن کا فرق کم ہوتا نظر آرہا ہے اور اس طرح شاید بیسویں صدی کے شروع میں یہ خلا بھی پر ہوجائے اور پھر تعجب یہ ہے کہ سب کچھ وہ ہاتھ کر رہے ہیں جو قیامت کے تصور سے بھی ناواقف ہیں یا واقف ہیں تو کھلے طور پر اس سے انکاری ہیں اگرچہ وہ خود اس کی عملی تصدیق میں حصہ لے رہے ہیں ان کی دنیوی آنکھ کھلی ہے لیکن اخروی آنکھ پر پردہ پڑا ہوا ہے کاش کہ ان کا یہ پردہ اٹھ جائے۔
Top