Mazhar-ul-Quran - Saad : 82
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ
قَالَ : اس نے کہا فَبِعِزَّتِكَ : سو تیری عزت کی قسم لَاُغْوِيَنَّهُمْ : میں ضرور انہیں گمراہ کروں گا اَجْمَعِيْنَ : سب
بولا : تو مجھ کو قسم ہے،1، تیری عزت کی ، ضرور میں گمراہ کروں گا ان سب کو
شیطان کا اللہ تعالیٰ سے تکبر کرنا۔ (ف 1) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ، شیطان نے قسم کھا کر اللہ سے کہا کہ انسان کے جسم میں جب تک جان رہے گی تب تک بہکانے میں کوتاہی نہ کروں گا، مگر تھوڑے سے لوگ جو تیری راہ میں اخلاص والے ہوں گے یعنی انبیاء واولیائ، اللہ نے قسم کھا کر جواب میں فرمایا کہ جب تک انسان کے جسم مین جان رہے گی اور گناہ کرکے توبہ کرتا رہے گا میں بھی ہمیشہ اس کے گناہ معاف کرتارہوں گا اس حدیث کو اسی آیت کی تفسیر سمجھنا چاہیے کیو کہ یہاں فقط شیطان کا قول ہے اور حدیث میں شیطان کا قول بھی ہے کہ اور اللہ تعالیٰ نے اس ملعون کے قول کی قسم کھاک رجوجواب دیا ہے وہ بھی موجود ہے حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا میں اللہ نے جس طرح ہر مرض کو پیدا کرکے اس کی دواپیدا کی اسی طرح آزمائش کے طور پر شیطان کو پیدا کرکے اس کی دواپیدا کردی، اسی طرح آزمائش کے طور پر شیطان کو پیدا کرکے اس کا علاج بھی پیدا کردیا ہے جس کی تاثیر کو قسم کھا کر اپنے بندوں کو سمجھایا ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ گناہ کرنے والادل سے اور دوسرے گناہ کرنے سے پہلے توبہ کرلیتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے اور اگر بغیر توبہ گناہ پر گناہ کرتا چلاجاتا ہے تو داغ پر داغ پڑجاتا ہے یہاں تک کہ تمام دل کو زنگ لگ جاتا ہے یہ فرماکر آپ نے یہ آیت پڑھی ، کلابل ران علی قلوبھم ماکانوایکسبون۔ بعض لوگ توبہ کرتے ہیں مگر اوپری دل سے اس طرح کہ توبہ کرتے وقت بھی ان کے دل میں آئندہ گناہ کی جانب سے پوری نفرت نہیں ہوتی وار اس طرح کی توبہ کرنا نہ کرنا یکساں ہے کہ قبول نہیں ہوتی۔
Top