Mufradat-ul-Quran - Saad : 60
قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلْ اَنْتُمْ ۣ : بلکہ تم لَا مَرْحَبًۢا : کوئی فراخی نہ ہو بِكُمْ ۭ : تمہیں اَنْتُمْ : بیشک تم قَدَّمْتُمُوْهُ : تم ہی یہ آگے لائے لَنَا ۚ : ہمارے لیے فَبِئْسَ : سو برا الْقَرَارُ : ٹھکانا
کہیں گے کہ بلکہ تم ہی کو خوشی نہ ہو تم ہی یہ (بلا) ہمارے سامنے لائے سو (یہ) برا ٹھکانا ہے
قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ۝ 0 ۣ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ۝ 0 ۭ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْہُ لَنَا۝ 0 ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ۝ 60 رحب الرُّحْبُ : سعة المکان، ومنه : رَحَبَةُ المسجد، ورَحُبَتِ الدّار : اتّسعت، واستعیر للواسع الجوف، فقیل : رَحْبُ البطن، ولواسع الصدر، كما استعیر الضيّق لضدّه، قال تعالی: ضاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِما رَحُبَتْ [ التوبة/ 118] ، وفلان رَحِيبُ الفناء : لمن کثرت غاشیته . وقولهم : مَرْحَباً وأهلا، أي : وجدت مکانا رَحْباً. قال تعالی: لا مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صالُوا النَّارِ قالُوا بَلْ أَنْتُمْ لا مَرْحَباً بِكُمْ [ ص/ 59- 60] . ر ح ب ) الرحب ( اسم ) جگہ کی وسعت کو کہتے ہیں ۔ اسی سے رحبۃ المسجد ہے جس کے معنی مسجد کے کھلے صحن کے ہیں اور رحبت الدار کے معنی گھر کے وسیع ہونے کے ۔ پھر یہ رحب کا لفظ استعارہ پیٹ یا سینہ کی وسعت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے رحب البطن ( بسیارخور ) رحب الصدر ( فراخ سینہ ) عالی ظرف کو کہتے ہیں ۔ جیسا کہ اس کے برعکس ضیق الصدر کا لفظ مجازا تنگ سینہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ضاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِما رَحُبَتْ [ التوبة/ 118] اور زمین باوجود وسعت کے تم پر تنگ ہوگئی ۔ اور بطور استعارہ جس کے نوکر چاکر بہت زیادہ ہوں اسے رحیب الفناء کہا جاتا ہے ۔ مرحبا واھلا تو نے کشادہ جگہ پائی اور اپنے اہل میں آیا ( یہ لفظ خوش آمدید کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ) قرآن میں ہے :َ لا مَرْحَباً بِهِمْ إِنَّهُمْ صالُوا النَّارِ قالُوا بَلْ أَنْتُمْ لا مَرْحَباً بِكُمْ [ ص/ 59- 60] ان پر خدا کی مار بیشک یہ بھی دوزخ ہی میں آ رہے ہیں ( یہ سن کر وہ کہیں گے ) بلکہ تم پر خدا کی مار ۔ قدم وأكثر ما يستعمل القدیم باعتبار الزمان نحو : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] ، وقوله : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ، أي : سابقة فضیلة، وهو اسم مصدر، وقَدَّمْتُ كذا، قال : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقاتٍ [ المجادلة/ 13] ( ق د م ) القدم عموما القدیم کا لفظ قدم باعتبار زمانہ یعنی پرانی چیز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ [يس/ 39] کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ۔ اور آیت کریمہ : قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ [يونس/ 2] ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے ۔ میں قدم صدق سے سابقہ فضیلت مراد ہے ۔ اور یہ اسم مصدر ہے اور قدمت کذا کے معنی پہلے کسی کوئی کام کرچکنے یا بھیجنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْواكُمْ صَدَقاتٍ [ المجادلة/ 13] کیا تم اس سے کہ پیغمبر کے کان میں کوئی بات کہنے سے پہلے خیرات دیا کرو، ڈرگئے ہو بِئْسَ و «بِئْسَ» كلمة تستعمل في جمیع المذام، كما أنّ نعم تستعمل في جمیع الممادح، ويرفعان ما فيه الألف واللام، أو مضافا إلى ما فيه الألف واللام، نحو : بئس الرجل زيد، وبئس غلام الرجل زيد . وينصبان النکرة نحو : بئس رجلا، ولَبِئْسَ ما کانوا يَفْعَلُونَ [ المائدة/ 79] ، أي : شيئا يفعلونه، ( ب ء س) البؤس والباس بئس ۔ فعل ذم ہے اور ہر قسم کی مذمت کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ نعم ہر قسم کی مدح کے لئے استعمال ہوتا ہے ان کا اسم اگر معرف بالللام ہو یا معرف باللام کی طرف مضاف ہو تو اسے رفع دیتے ہیں جیسے بئس الرجل زید وبئس غلام الرجل زید ۔ اور اسم نکرہ کو نصب دیتے ہیں جیسے قرآن میں ہے ؛ ۔ { بِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ } ( سورة المائدة 79) یعنی بلا شبہ وہ برا کرتے تھے قرر قَرَّ في مکانه يَقِرُّ قَرَاراً ، إذا ثبت ثبوتا جامدا، وأصله من القُرِّ ، وهو البرد، وهو يقتضي السّكون، والحرّ يقتضي الحرکة، وقرئ : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ [ الأحزاب/ 33] «1» قيل «2» : أصله اقْرِرْنَ فحذف إحدی الرّاء ین تخفیفا نحو : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ [ الواقعة/ 65] ، أي : ظللتم . قال تعالی: جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَراراً [ غافر/ 64] ، أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَراراً [ النمل/ 61] ، أي : مستقرّا، وقال في صفة الجنّة : ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ«3» ، وفي صفة النّار قال : فَبِئْسَ الْقَرارُ [ ص/ 60] ، وقوله : اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ ما لَها مِنْ قَرارٍ [إبراهيم/ 26] ، أي : ثبات، وقال الشاعر : 365- ولا قرار علی زأر من الأسد «4» أي : أمن واسْتِقْرَارٍ ، ويوم الْقَرِّ : بعد يوم النّحر لاستقرار الناس فيه بمنی، وو ، وقیل : قَرَّتْ ليلتنا تَقِرُّ ، ويوم قَرٌّ ، ولیلة قِرَّةٌ ، وقُرَّ فلان فهو مَقْرُورٌ: أصابه الْقُرُّ ، وقیل : حرّة تحت قِرَّةٍ «2» ، وقَرَرْتُ القدر أَقُرُّهَا : ( ق ر ر ) قرنی مکانہ یقر قرار ا ( ض ) کے معنی کسی جگہ جم کر ٹھہر جانے کے ہیں اصل میں یہ فر سے ہے جس کے معنی سردی کے ہیں جو کہ سکون کو چاہتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ [ الأحزاب/ 33 اور اپن گھروں میں ٹھہری رہو ۔ میں ایک قرات وقرن فی بیوتکن ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں اقررن ہے ایک راء کو تخفیف کے لئے خلاف کردیا گیا ہے جیسا کہ آیت ؛ فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ [ الواقعة/ 65] ، ہے اور ایک ) لام کو تخفیفا حذف کردیا گیا ہے ۔ القرار ( اسم ) ( ٹھہرنے کی جگہ ) قرآن میں ہے : جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَراراً [ غافر/ 64]( جس نے ) زمین کو قرار لگا دبنا یا ۔ اور جنت کے متعلق فرمایا : ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ«3»جو رہنے کے لائق اور جہاں نتھرا ہوا پانی تھا ( پناہ دی ) اور جن ہم کے متعلق فرمایا : فَبِئْسَ الْقَرارُ [ ص/ 60] اور وہ بڑا ٹھکانا ہے ۔ اور آیت کریمہ : اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ ما لَها مِنْ قَرارٍ [إبراهيم/ 26] زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیاجائے ۔ اس کو ذرا بھی قرار نہیں ہے ۔۔۔ قرار کے معنی ثبات کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے (352) ولا قرار عل ی زاز من الاسد یعنی شیر کے دھاڑنے پر امن ( چین) حاصل نہیں ہوسکتا ۔ اور یوم النحر سے بعد کے دن کو یوم القر کہاجاتا ہے کیونکہ لوگ اس روز منیٰ میں ٹھہری رہتے ہیں ۔
Top