Urwatul-Wusqaa - Saad : 60
قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلْ اَنْتُمْ ۣ : بلکہ تم لَا مَرْحَبًۢا : کوئی فراخی نہ ہو بِكُمْ ۭ : تمہیں اَنْتُمْ : بیشک تم قَدَّمْتُمُوْهُ : تم ہی یہ آگے لائے لَنَا ۚ : ہمارے لیے فَبِئْسَ : سو برا الْقَرَارُ : ٹھکانا
وہ (جواباً ) کہیں گے بلکہ تم ہی پر خدا کی پھٹکار ہو تم ہی تو ہو کہ یہ (عذاب) ہمارے آگے لائے پس وہ (دوزخ) بہت ہی برا ٹھکانا ہے
بعد میں آنے والے اپنے پیروں اور راہنمائوں اور لیڈروں سے مخاطب ہوتے ہیں 60۔ بعد میں آنے والے مرید ، چیلے اور جیالے اس وقت اپنے پیروں ، رہنمائوں اور لیڈروں کو مخاطب کریں گے اور کہیں گے کہ تم پر اللہ کی پھٹکار ہو تم ہی تو ہم کو اس عذاب میں داخل کرنے والے ہو کیونکہ تمہارے باعث ہی ہم اس طرف کو آئے ہیں تم نے اپنے بیڑا بھی غرق کیا ہے اور ہمارا بھی یہ ایک ایسی برک جگہ ہے جہاں اب نہ تمہارے لیے آرام ہے اور نہ ہی ہمارے لیے گویا یہ وہی بات ہوئی کہ ” آپوی گلیوں باہمنا ججمانوی نالے “ دوزخ کیا ہے ؟ اس کی پوری وضاحت ہم پیچھے کئی ایک مقامات پر کرچکے ہیں اور یہ بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ آخرت میں جزا و سزا سب کی سب تمثیل ہوگی اور اس تمثیل کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ جیسا عمل ہوگا اس کے مناسب ومشابہ اس کی جزا یا سزا ہوگی مثلا قرآن کریم میں ہے کہ جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان لوگوں کو دوزخ میں زخمیوں کی دھون پینے کو ملے گی اور یہ کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان دیں گے مرنے کے بعد ان کو تازہ جانیں اور حیات نو بخش دی جائے گی وہ دولت مند لوگ جن کو دھوپ کی تپش سے بچنے کے لیے قصرات و محلات اور پینے کے لیے ٹھنڈے ٹھندے مشروبات اور عزت کے مقامات عطا کیے گئے تھے اگر انہوں نے دنیا میں ان نعمتوں کے دیئے جانے کا شکر ادا نہ کیا اور حق داروں کو ھق نہ لوٹایا تو آخرت میں ان سے یہ سب سروسامان چھین لیا جائے گا اور اس کی جگہ جو دیا جائے گا وہ ایسا ہوگیا کہ : (فی سموم وحمیم وظل من یحموم لا بارد ولا کریم انھم کانوا قبل ذلک مترفین) ( الواقعہ 56 : 42 : 45) ” وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سایے میں ہوں گے جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے بہت خوش حال تھے “ جیسا کہ رویا برزخ کی حدیث میں ہے کہ آپ نے کچھ ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جن کا آدھا دھڑ تو بہت خوبصورت تھا لیکن آدھا دھڑ بہت ہی بدصورت تھا یہ وہ لوگ تھے جن کے کچھ کام اچھے اور کچھ برے تھے اس لیے ان کی بداعمالی ، بدصورتی اور نیک اعمال خوبصورتی کے رنگ میں نمایاں ہوئی ، صریح طور پر یہ اصول ان احادیث سے مستنبط ہوتا ہے چونکہ اس جگہ دوزخ کا ذکر ہے اس لیے اس جگہ برے اعمال کے برے بدلہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ 1۔ حدیث میں ہے کہ ” اہل تکبر قیامت کے دن چیونٹیاں بنا کر اٹھائے جائیں گے جن پر ہر طرف سے ذلت و خواری چھائی ہوئی ہوگی “ (ترمذی کتاب الزہد والرقاق) غور کرو کہ تکبر کی جزا ذلت و خواری سے ملے گی اور چیونٹیوں سے زیادہ حقیر و ذلیل کوئی ہستی نہیں اس لیے ان کی بڑائی اور تکبر کا معاوضہ یہ ہوگا کہ چیونٹی بن کر اٹھیں۔ بخاری مثل لہ مالہ شجاعا اقرع) گویا صفت بخل اس کے حق میں اس سانپ کی صورت اختیار کر کے اس کی تکلیف کا باعث ہوگی۔ اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ” جو شخص بلا وجہ بھیک مانگ کر اپنی آبروریزی کرتا ہے قیامت میں وہ اٹھے گا تو اس کے چہرہ پر گوشت نہ ہوگا۔ “ مولوم ہوا کہ دنیاوی بےشرمی و بےحیائی بےگوشت چہرہ کی صوت میں ظاہر ہوگی۔ اس طرح یہ بھی فرمایا دو بیبیوں کا وہ شوہر جو ایک کا حق ادا کرتا اور دوسری سے غفلت برتتا تھا قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گویا مفلوج ہو کر جھک گیا ہوگا۔ (ترمذی) یعنی ایک پہلو کا عدم ادائی حق اپنی تمثیلی صورت میں ایک پہلو کی مفلوجی کیفیت میں نمودار ہوگا۔ یہ چند حوالے ذکر کیے گئے ہیں ان ہی پر جزا و سزا کے اور دوسرے جزئیات کو قیاس کرنا چاہیے سورة طہ کی آیات 124 تا 126 کی تفسیر دیکھیں عروۃ الوثقی جلد پنجم۔ غور کرو کہ دنیا میں دل کی نابینائی قیامت میں ظاہری نابینائی اور دنیا میں اللہ رب کریم کو بھولنا اور ارس کے احکام کی پرواہ نہ کرنا وہاں رحمت الہٰی کی یاد سے بھول کی شکل میں نمودار ہوگا اور یہی دنیا کے اعمال کے نتیجہ ہے جو بعنہی اسی طرح ہے جیسے اعمال تھے۔ دوزخ میں روحانی اور جسمانی دونوں سزائیں ملیں گی۔ قرآن کریم میں جن جسمانی سزائوں کا ذکر ہے وہ حسب ذیل ہیں : 1۔ آتش دوذخ اور اس کی سوزش کا ذکر باربار آیا ہے بلکہ ( انار) یعنی آگ گویا دوزخ کا دوسرا نام ہے اور انہی معنوں میں ( السعیر) یعنی جلتی آگ بھی بارہا مستعمل ہوا ہے اور ( عذاب الحریق) ( جلن کا عذاب) بھی بعض جگہ بیان کیا گیا ہے جیسے ( آل عمران : 181) ( الانفال : 50) (الحج : 22) (البروج : 10) اور جگہ اس طرح بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ( تلفح وجوھھم النار وھم فیھا کالحون) المومنون : 23 : 104) ” ان کے چہروں کو دوزخ کی آگ جھلس دے گی اور ان کی صورتیں اس میں بگڑ جائیں گی “ دوزخ کا ایک نام سقر بھی ہے جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( وما ادراک ماسقر لا تبقی ولا تذر لواحۃ للبشر ) (مدثر 27۔ 29) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے ؟ نہ وہ باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی ، چہروں کو جھلس دینے والی ہوگی “ ایک جگہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( کلا انھا لطی نزاعۃ للشوی ( المعارج : 15 : 16) ” ہرگز نہیں وہ شعلہ والی آگ ہے منہ کی کھال ادھیر دینے والی ہے۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( انھا ترمی بشرر کا لقصر کانہ جمٰلٰت صفرہ ) مرسلات : 32 ، 33) ” دوزخ محل کے برابر اونچی چنگاریاں اتنی بڑی بڑی پھینکے گی جیسے زرد رنگ کے اونٹ۔ “ 2۔ وہاں سایہ نہ ہوگا اور جو ہوگا وہ دکھ میں مزید اضافہ کرنے والا ہوگا۔ چناچہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( انطلقوا الی ظل ذی ثلٰث شعب لا ظلیل ولا یغنی من اللھب (مرسلات 30 : 31) ” چلو ایک سایہ کی طرف جس کی تین پھانکیں ہوں گی وہ گھنا سایہ نہیں ہوگا اور نہ ہی تپش سے بچائے گا۔ “ 3۔ وہاں ٹھنڈک نہ ہوگی جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( لایذوقون فیھا بردا ولا شرابا) نباء : 24) ” اس میں نہ وہ ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ ہی کسی پینے کی چیز کا۔ “ 4۔ وہاں پینے کو گرم پانی ملے گا جس سے آنتیں گلنے لگیں گی۔ ارشاد خداوندی ہے کہ ( وسقوا ماء حمیما فقطع امعائھم) (محمد : 15) ” اور وہ گرم پانی پلائے جائیں گے کہ وہ ان کی آنتوں کو کاٹ کر رکھ دے گا “ 5۔ دوذخ میں نہ موت آئے گی اور نہ چین کی زندگی نصیب ہوگی جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے کہ ( لا یموت فیھا ولا یحییٰ ) طہ : 74 ، الاعلی : 13) ” وہاں وہ نہ مریں گے اور نہ ہی جیئیں گے “ گویا بدنصیبی کی زندگی کوئی زندگی نہیں لیکن اس کو موت بھی نہیں کہا جاسکتا۔ 6۔ پینے کے لے کھولتا پانی اور پیپ دی جائے گی جیسا کہ فرمایا ( الا حمیما و غساقا) نباء : 25) ” کھولتا پانی اور زخموں کا دھون یا پیپ۔ “ 7۔ عذاب کو زیادہ کرنے کے لیے ان کے اوپر گرم پانی چھوڑا جائے گا فرمایا ( یصب من فوق رء وسھم الحمیم) (الحج : 19) ” ان کے سروں کے اوپر گرم پانی ڈالا جائے گا۔ “ 8۔ کھانے کے لیے تھوہر کا درخت دیا جائے گا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (ام شجرۃ الزقوم انا جعلنھا فتنۃ للظٰلمین انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم (الصفٰت : 62 ، 64) ” یا تھوہر کا درخت ہم نے اس کو سرکشوں کے لیے آزمائش بنا دیا ہے وہ ایک درخت ہے جو دوزخ کی جڑ سے نکلتا ہے “ اور یہی بیان سورة الفرقان کی آیت 43 تا 46 میں کیا گیا ہے۔ 9۔ دوزخیوں کو خار دار جھاڑی کھانے کے لیے پیش کی جائے گی جس سے بدن کو کوئی فائدہ نہ ہوگا چناچہ فرمایا گیا کہ ( لیس لھم طعام الا من ضریع لا یسمن ولا یغنی من جو ع) ( الغاشیہ : 6 ، 7) ” اور ان کے لیے کوئی کھانا نہ ہوگا لیکن خار دار جھاڑیاں جس میں نہ ہو موٹے ہوں گے اور نہ ہی بھوک اترے گی۔ “ 10۔ زخموں کا دھو ون اور پیپ پینے کو ملے گا ( ولا طعام الا من غسلین) ٌ (الحاقہ : 36) ” گلے میں اٹکنے والا کھانا ہوگا۔ “ 12۔ آگ کے کپڑوں کا لباس ہوگا جیسا کہ ارشاد فرمایا ( فالذین کفروا قطعت لھم ثیاب من نار) (الحج : 19) ” کافروں کے لیے آگ کے کپڑے قطع کیے جائیں گے “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( سرابیلھم من قطران) ابراہیم : 50) ” ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے۔ “ 13۔ ان کو وہاں لوہے کے ہتھوڑے اور گرز پڑیں گے جیسا کہ فرمایا ( ولھم مقامع من حدید) (الحج : 21) ” ان کے لیے لوہے کے ہتھوڑے یا گرز ہوں گے۔ “ 14۔ دوزخیوں کے گلے میں طوق اور زنجیریں ہوں گی جیسا کہ ارشاد الہیٰ ہے کہ : (اذا لاغلال فی اعناقھم والسلسل عسحبون) (ال مومن : 17) ” جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی اور وہ کھینچے جائیں گے “ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( انا اعتدنا للکافرین سلسلا واغلا لا وسعیرا) (الدھر : 4) ” ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں ، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے “ ایک جگہ ارشاد الہٰی ہے کہ (مقرنین فی الاصفاد) (ابراہیم : 49) ” وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ “ یہ سب جسمانی سزائیں ہیں جن کا ذکر اس جگہ کیا گیا۔ بلاشبہ وہاں روحانی سزائیں بھی ہوں گی جو اہل نظر کی نگاہوں میں جسمانی سزائوں سے بھی بڑھ کر ہیں چناچہ آگ بھی ہوگی جو براہ راست جا کر دل پر اثر انداز ہوگی اور سمجھنے والوں کے لیے یہ عذاب جسم کے عذاب سے بھی بڑا ہے پھر خاص کر جب وہ مسلسل اور نہ ختم ہونے والا ہو۔ چناچہ ارشاد الہٰی ہے کہ : (نار اللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدۃ (الھمزہ : 6 ، 7) ” اللہ کی آگ خوب بھڑکائی ہوئی جو دلوں تک پہنچے گی “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( واسروا الندامۃ لما راو العذاب) (یونس : 54) ” اپنی پیشانیوں کو چھپائیں گے جب اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھیں گے “ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ( کلما ارادوا ان یخرجوا منھا من غم) (الحج : 22) ” وہ جب غم کی وجہ سے دوزخ سے نکلنا چاہیں گے تو نکل نہیں سکیں گے “ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ (فالیوم تجزون عذاب الھون) (الاحقاف : 20) ” پس آج وہ ذلت کے عذٖاب کا بدلہ دیئے جائیں گے “ اور پھر اس عذاب سے بھی بڑھ کر یہ عذاب کہ ان کو معذرت پیش کرنے کی بھی اجازت نہ دی جائے گی جیسا کہ ارشاد خدا وندی ہے کہ ( لا تعتذرو الیوم) (التحریم : 7) ” آج معذرتیں پیش نہ کرو “ اور پھر یہاں تک کہ ان کو بات کرنے کی اجازت بھی نہ ہوگی چناچہ فرمایا کہ ( کلا انھم عن ربھم یومئذلمحجوبون) ( التطفیف : 15) ” ہرگز نہیں وہ اس دن اپنے رب سے پردہ میں ہوں گے “ کہ سامنے خآنے کی اجازت ہی نہ دی جائے گی یہ سب روحانی عذاب کی ایسی صورتیں ہیں جو جسمانی عذاب سے بھی بڑھ کر ہیں بشرطیکہ کوئی سمجھنے والا بھی ہو۔ گویا یہ ایسے دوزخی ہیں کہ جو نگاہ کرم سے بھی محروم رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا نہ اس سے براہ راست بات ہی کرے گا یہ گویا شفیق و رحیم رب کی انتہائی ناراضی کی تصویر ہے اور اس کے احساس کو وہی جان سکتا ہے جو عشق و محبت کا زخم خورہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اس روحانی عذاب اور اس جسمانی عذاب سے بچائے۔ (آمین) اس کے فضل و کرم سے یہی امید ہم بھی رکھتے ہیں اور اسی امید کے سہارے زندہ ہیں۔ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ پہلے داخل ہونے والے وہی لوگ ہوں گے جو دنیا میں کھاتے پیتے اور باپ دادا والے کہلاتے تھے جن کو ہم نے سیاسی لیڈر اور مذہبی راہنما قرار دیا ہے۔ دیہات میں ان لوگوں کو چوہدری کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور ہمارے ملک میں مغربی جمہوریت کی لعنت ہے اس میں بی ڈی سے لے کر ایم این اے تک جتنے لوگ ہیں سینٹ کے ممبران اور وزراء ومشیران سب کو سمجھا جاسکتا ہے اور اسی طرح کے لوگوں کو قرآن کریم کی زبان میں مترفین کہا گیا ہے مختصر یہ کہ جن کے متعلق بچہ بڑا سب جانتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی بات چلتی ہے ، وہ ان کے مذہبی پروہت ہونے کے باعث چلتی ہو یا کھانے پینے اور زمین و برداری اور کاندان کے لحاظ سے چلتی ہو۔ بہرحال یہ لوگ اگر گمراہ ہوں تو بلاشبہ دوسروں کی گمراہی کا باعث ہوتے ہیں اس لیے یہ اس کے مستحق ہیں کہ ان کو دوزخ میں اولیت دی جائے اور بلاشبہ ان کو اولیت ہی دی جائے گی اور ان کے بعد دنیا میں ان لوگوں کی بات کو ماننے والے جن کو ہم نے مریدین ، چیلے اور جیالوں کا نام دیا ہے وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے دوزخ کی طرف ہانک دیئے جائیں گے اور جب وہ داخل ہوں گے تو جاتے ہی ان اپنے پیروں ، مرشدوں ، گروئوں اور لیڈروں کو پہچان لیں گے تو ان کو دیکھتے ہی آگ بگولا ہوجائیں گے کیونکہ ان کی پیروی کر کے وہ یہاں پہنچے ہیں اور ان کی باتیں ماننے کے انجام سے اب وہ دوچار ہوئے ہیں۔ وہ آتے ہی کہیں گے کہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہٰں ہے اور یہ جملہ خود ہی بتا رہا ہے کہ وہ دنیا میں ان کو خوش آمدید کہتے رہے ہیں اور پھر اس طرح سخت لہجہ میں برہم ہو کر ان سے کہیں گے کہ ( انتم قدمتموہ لنا) کہ تم نے ہمارے لیے اس عذاب کو آگے کیا ہے یونی تم ہی ہمارے یہاں لانے کا باعث ٹھہرے ہو۔ دیکھو یہ کتنا برا ٹھکانہ ہے جس میں تم بھی داخل ہوگئے اور ہم کو بھی یہاں لا پھنسایا۔ اور اس میں بتانا یہ مقصود ہے کہ ہر آدمی کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دنیا میں جس کو دارالعمل قرار دیا گیا ہے خود اپنی ہدایت کی راہ تلاش کرے اور اندھی تقلید مین ہرگز نہ گرے کیونکہ اندھی تقلید کرنے والوں کا ایسا حشر ہونے والا ہے اور تقلید کرنے والوں کو جن کی وہ تقلید کرتے رہے کچھ فائدہ نہیں دیں گے بلکہ اکثر ایسے ہی ہوں گے جو ان کے نقصان کا باعث ہوں ، جو اس دنیا سے رخصت ہوگئے ان کا دروازہ تو بند ہوگیا جو اس وقت موجود ہیں وہ ان آیات کریمات کو پڑھ کر ، سن کر ، سمجھ کر خود اپنی اصلاح کریں تاکہ آنے والے کل میں ان کو پچھتاوا اور حسرت نہ ہو۔
Top