Tadabbur-e-Quran - Saad : 60
قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلْ اَنْتُمْ ۣ : بلکہ تم لَا مَرْحَبًۢا : کوئی فراخی نہ ہو بِكُمْ ۭ : تمہیں اَنْتُمْ : بیشک تم قَدَّمْتُمُوْهُ : تم ہی یہ آگے لائے لَنَا ۚ : ہمارے لیے فَبِئْسَ : سو برا الْقَرَارُ : ٹھکانا
وہ جواب دیں گے بلکہ تم، تم پر خدا کی مار ! تمہی نے ہمارے لئے یہ سامان کیا۔ پس کیا ہی برا ٹھکانا ہوگا !
قالوا بل انتم لامرحبا بکم ط انتم قد ممتموہ لا فبئس القرار (60) پیرو غصہ سے دانت پیس کر جواب دیں گے کہ یہ تم، تم پر خدا کی مار ہو، تم ہو جس نے ہمارے لئے اس عذاب کا سامان کیا۔ اس فقرے میں مبتداء کے اعادے اور دونوں مبتدائوں کے بیچ میں جملہ معترضہ پر نگاہ رہے۔ ایک ایک لفظ سے غصہ اہل رہا ہے فبئس القرار بطور حسرت ان کی زبان سے نکلے گا کہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے جس کا تم نے ہمارے لئے سامان کیا ! ویسے یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور استدراک بھی ہوسکتا یہ۔ لیکن مفہوم میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوگا۔
Top