Tafseer-e-Usmani - Saad : 60
قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلْ اَنْتُمْ ۣ : بلکہ تم لَا مَرْحَبًۢا : کوئی فراخی نہ ہو بِكُمْ ۭ : تمہیں اَنْتُمْ : بیشک تم قَدَّمْتُمُوْهُ : تم ہی یہ آگے لائے لَنَا ۚ : ہمارے لیے فَبِئْسَ : سو برا الْقَرَارُ : ٹھکانا
وہ بولے بلکہ تم ہی ہو کہ جگہ نہ ملیو تم کو تم ہی پیش لائے ہمارے یہ بلا سو کیا بری ٹھہرنے کی جگہ ہے5
5  یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی، جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لا لا کر دوزخ کے کنارے پر جمع کریں گے۔ پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا بعدہ ان کے مقلدین و اتباع کی جماعت آئے گی۔ اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لو ! یہ ایک اور فوج دھنستی اور کھپتی ہوئی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے کے لیے چلی آرہی ہے۔ خدا کی مار ان پر۔ یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے۔ خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے۔ اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو ! تمہی پر خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی کہیں آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواء واضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی۔ اب بتاؤ کہاں جائیں۔ جو کچھ ہے یہی جگہ ٹھہرنے کی ہے جس طرح ہو یہاں ہی سب مرو کھپو۔
Top