Mutaliya-e-Quran - Saad : 88
وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠   ۧ
وَلَتَعْلَمُنَّ : اور تم ضرور جان لو گے نَبَاَهٗ : اس کا حال بَعْدَ : بعد حِيْنٍ : ایک وقت
اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہو جائے گا
وَلَتَعْلَمُنَّ [اور تم لوگ لازما جان لو گے ] نَبَاَهٗ [اس کی خبر کو ] بَعْدَ حِيْنٍ [کچھ وقت کے بعد ] ۔ نوٹ۔ 1: یہ پورا قصہ قریش کے اس قول کے جواب میں سنایا گیا ہے، جو اسی سورة کی آیت 7 میں نقل کیا گیا کہ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر ذکر نازل کیا گیا۔ اس کا ایک جواب تو وہ تھا جو آیت نمبر 9 اور 10 میں دیا گیا تھا کہ کیا خدا کی رحمت کے خزانوں کے تم مالک ہو اور کیا آسمان و زمین کی بادشاہی تمہاری ہے کہ تم فیصلہ کرو کہ اللہ کا نبی کسے بنایا جائے اور کسے نہ بنایا جائے۔ دوسرا جواب یہ ہے ۔ اس میں سراداران قریش کو بتایا گیا ہے کہ محمد ﷺ کے مقابلہ میں تمہارا حسد اور بڑائی کا گھمنڈ، حضرت آدم (علیہ السلام) کے مقابلہ میں ابلیس کے حسد اور گھمنڈ سے ملتا جلتا ہے۔ ابلیس نے بھی اللہ تعالیٰ کے اس حق کو ماننے سے اور کیا تھا کہ جسے وہ چاہے اپنا خلیفہ بنائے اور تم بھی اس کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہو کہ جسے وہ چاہے اپنا رسول بنائے۔ اس حضرت آدم (علیہ السلام) کے آگے جھکنے کا حکم نہ مانا اور تم محمد ﷺ کی پیروی کرنے کا حکم نہیں مان رہے ہو۔ اس کے ساتھ تمہاری یہ مشابہت بس اس حد پر ختم نہ ہوجائے گی، بلکہ تمہارا انجام پھر وہی ہوگا جو اس کے لئے مقدر ہوچکا ہے یعنی دنیا میں اللہ کی لعنت اور آخرت میں جہنم کی آگ۔ (تفہیم القرآن) اسے آیات کا باہمی ربط بھی واضح ہوگیا۔
Top